مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 42

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 42 چنداں مشکل نہیں ہے۔کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ مسیحی حضرات اپنے اس عقیدہ کی نامعقولیت پر معترض ہوئے بغیر اس سے چھٹے رہنے کی غفلت سے بیدار ہوں۔اگر وہ اپنے اس عقیدہ کا عقل عمومی کی روشنی میں از سر نو جائزہ لے کر اس کی نامعقولیت کو محسوس کر لیں گے تو وہ اچھے با عمل عیسائی پھر بھی رہیں گے لیکن وہ ایک مختلف اور حقیقت پسندانہ نوعیت کے عیسائی ہوں گے۔اندریں صورت وہ اور زیادہ محبت اور گہری وابستگی کے ساتھ مسیح کی انسانی حقیقت پر یقین رکھنے والے ہوں گے بہ نسبت اس خیالی مسیح پر ایمان رکھنے کے جو محض ان کے اپنے تخیل کی پیداوار ہے اور ایک فسانہ سے زیادہ جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔مسیح کی بڑائی اور عظمت روایتی داستان میں نہیں بلکہ اس عظیم قربانی میں مضمر ہے جو اس نے ایک انسان اور خدا کے ایک پیغمبر کی حیثیت سے پیش کی۔یہ ایک ایسی قربانی تھی جو دل پر زیادہ قوت اور گہرائی کے ساتھ اثر انداز ہوتی ہے بہ نسبت اس دیو مالائی قصہ کے کہ وہ صلیب پر مرنے اور دوزخ میں چند دہشت ناک گھنٹے گزارنے کے بعد مردوں میں سے دوبارہ جی اٹھا تھا۔فسانہ ، فسانہ ہی ہو تا ہے حقیقت کے آگے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔مسیح کے لئے کفارہ ادا کرنا ممکن نہ تھا آخر میں پیش کیا جانے والا ایک اور سوال بھی کچھ کم اہم نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ مسیح پیدائشی طور پر گناہ سے پاک اور معصوم کیسے ہو سکتا تھا جبکہ وہ پیدا ہی ایک انسان ماں کے بطن سے ہوا؟ اگر آدم اور حوا کے ابتدائی گناہ نے اس بد قسمت جوڑے کی آئندہ آنے والی تمام نسلوں کو موروثی طور پر گناہ سے آلودہ کر دیا تھ تو ایک ناگزیر نتیجہ کے طور پر یہ امر لازم آتا ہے کہ نسل آدم کے تمام بچے کیا ذکور و کیا اناث سب ہی گناہ کے طبعی میلان کا عورتوں میں منتقل ہونے کا امکان اس لئے زیادہ تھا کہ یہ حوا ہی تو تھی جس نے شیطان کے آلہ کار کی حیثیت سے آدم کو ورغلا کر گناہ میں ملوث ہونے پر آمادہ کیا تھا۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو از روئے انصاف ارتکاب گناہ کی ذمہ داری آدم کی بہ نسبت حوا کے کندھوں پر زیادہ عائد ہوتی ہے۔مسیح کی پیدائش کے معاملہ میں یہ بات ظاہر وباہر ہے کہ وہ اس حوا کی ایک بیٹی کے بطن سے سے پیدا ہوا تھا جو ابتدائے آفرینش میں سرزد ہونے والے گناہ کی زیادہ ذمہ دار تھی۔اس ضمن میں یہ سوال بڑی شدت سے ابھر کر سامنے آتا ہے کہ آیا مسیح کو انتقال ورثہ کے مخصوص خلیوں (Chromosomes) کے ساتھ کوئی توارثی عصر (Gene) اپنی انسانی ماں سے پیدائشی طور پر ورثہ میں ملا تھا یا نہیں؟ اگر ملا تھا تو موروثی گناہ کی