مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 37

37 گناہ اور کفارہ پہلے گناہ کی پاداش کے طور پر مسیح کو تین دن اور تین رات کے لئے جنت سے نکال دیا جاتا اور اسی دم بات آئی گئی ہو کر قصہ تمام ہو جاتا۔افسوس ! نہ باپ خدا کو اس بات کا خیال آیا اور نہ ”باپ خدا“ کے ” بیٹے مسیح کو یہ بات سو جھی۔سوچنے کا مقام ہے کہ مسیح کی مقدس اور محبت انگیز حقیقت کو بد قسمتی سے کیسے مضحکہ خیز اور سراسر نا قابل یقین دیو مالائی قصہ کا روپ دے دیا گیا اور آنے والی نسلیں بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ گئیں۔عدل اور معاف کر دینے کی صفت جزا سزا کی مسیحی فلاسفی ہر قسم کے تعصبات سے پاک یعنی صاف و شفاف انسانی ذہن کے لئے نہ صرف الجھاؤ اور پریشانی کا موجب ہے بلکہ اس کی وجہ سے بعض ایسے متعلق سوال بھی سامنے آتے ہیں جو خود اپنی جگہ ذہن کو کچھ کم گنجلک میں مبتلا نہیں کرتے۔مثال کے طور پر کفارہ کی مسیحی فلاسفی کو ہی لے لیں اس کے نتیجہ میں عدل اور معافی کے باہمی تعلق کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خدا خو د انسانوں کے گناہوں کو کیوں معاف نہیں کر سکتا۔اس فلاسفی کا سارا استدلال عدل کے یکسر غلط اور یک طرفہ تصور پر مبنی ہے۔اس کی رو سے طے شدہ حقیقت کے طور پر تسلیم یہ کر لیا گیا ہے کہ عدل اور معافی کا باہم یکجا اور اکٹھا ہو نا ممکن نہیں ہے۔انہیں بلاوجہ ایک دوسرے کی ضد قرار دے دیا گیا ہے۔اگر یہ واقعی ایک دوسرے سے یکسر مختلف اور باہم متناقض ہیں تو پھر عہد نامہ جدید میں انسانی رشتوں اور تعلق داری کا ذکر کرتے ہوئے باہم معاف کر دینے اور در گزر سے کام لینے پر بہت زور کیوں دیا گیا ہے۔میں نے کسی بھی مذہب کے مقدس آسمانی صحیفوں میں ایسی تعلیم نہیں دیکھی جس میں معاف کر دینے کی صفت کی اہمیت پر یکطرفہ اور غیر متوازن انداز میں اس درجہ زور دیا گیا ہو جتنا کہ عہد نامہ جدید میں دیا گیا ہے۔کس قدر اختلاف اور تضاد ہے انجیل کی اس تعلیم اور انصاف کی اہمیت سے متعلق یہودیت کی پر زور روایتی تعلیم میں۔آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کی تعلیم ایسے سادہ اور کھردرے انصاف کی آئینہ دار ہے جو ضروری تراش خراش اور تہذیب و تصویب سے مبرا ہے۔اس کے بالمقابل کیسی ڈرامائی تبدیلی کی آئینہ دار ہے یہ مسیحی تعلیم کہ اگر کوئی شخص تیرے ایک گال پر تھپڑ رسید کرے تو تو دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دے۔یہ بعد میں عطا ہونے والی تعلیم کس نے دی جو قبل ازیں دی گئی توریت کی تعلیم کے بالکل بر خلاف ہے ؟۔انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کیا توریت والی پہلی تعلیم واقعی ”باپ خدا کی عطا کردہ تعلیم تھی۔اگر واقعی توریت کی