مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 25
25 گناہ اور کفارہ نظر آنے والے تضادات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر تضادات کے دور ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو ہم متن کے ایک حصہ کو انسانی دست برد کا نتیجہ سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔ابتداء عیسائیت فی ذاتہ صداقت کی آئینہ دار تھی۔یہ منجانب اللہ ہونے کی وجہ سے خلاف عقل باتوں ، نا قابل قبول حقائق یا نیچر کو جھٹلانے والے عقائد پر مشتمل نہیں ہو سکتی تھی۔یہی وجہ ہے ہم نے بائبل کے متن پر بحث کی بجائے ان بنیادی اعتقادات سے گفتگو کا آغاز کیا ہے جنہیں کئی صدیوں کے سوچ بچار کے دوران مسیحی فلاسفی کے متفق علیہ اجزائے ترکیبی کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ان میں سے بنیادی اہمیت رکھنے والا ابتدائی مسئلہ گناہ اور کفارہ کی بابت مسیحی تفہیم سے تعلق رکھتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ مسیحی تاریخ کے کسی نہ کسی دور میں، کہیں نہ کہیں کسی نے بعض باتوں کو غلط نقطۂ نظر سے دیکھا اور انہیں سمجھنے میں اس نے لغزش کھائی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنے علم اور سمجھ کے مطابق انہیں غلط معانی پہنا کر ان کی بالکل نئی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی اور اس طرح وہ بعد میں آنے والی نسلوں کو گمراہ کرنے کا موجب بنا۔ورثہ میں ملنے والا گناہ بحث و تمحیص جانچنے اور پر کھنے کی خاطر ہم فرض کر لیتے ہیں کہ عہد نامہ قدیم کے رو سے آدم اور حوا گناہ کے مرتکب ہوئے اور اس کی انہیں پوری پوری سزادی گئی جیسا کہ بائبل میں مذکور ہے سزا ان دونوں کو ہی نہیں دی گئی بلکہ مقررہ حد سے تجاوز کر کے بعد میں آنے والی پوری کی پوری نسل آدم کو سزا کا مستوجب ٹھہرایا گیا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قرار واقعی سزا کا نفاذ عمل میں آگیا تھا تو پھر سزا کو مزید بڑھانے اور طول دینے کی سرے سے ضرورت ہی کیوں محسوس کی گئی۔جب کسی گناہ کی سزا دے دی جاتی ہے تو باز پرس، جواب طلبی اور سزا دہی کا معاملہ اپنے اختتام کو پہنچ جاتا ہے۔جب فیصلہ سنا کر سزا کا اعلان کر دیا جاتا ہے تو کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اعلان کردہ سزا میں مزید سزاؤں کا اضافہ کرتا چلا جائے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آدم و حوا کے معاملہ میں بات اتنی ہی نہیں ہے کہ انہیں سخت سرزنش کی گئی اور یہ کہ جو گناہ انہوں نے کیا تھا اس سے کہیں زیادہ انہیں سزادی گئی بلکہ اس سے بڑھ کر محل نظر بات یہ بھی ہے کہ ان کی تمام نسلوں کو گنہگار قرار دے کر انہیں جو سزا دی گئی اس کی نوعیت خود اپنی جگہ بے انتہا قابل اعتراض ہے۔اس بارہ میں ہم پہلے ہی بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔سر دست ہم جس پہلو کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اس انتہائی قابل اعتراض سزا کی نوعیت حقیقی عدل کی ظالمانہ خلاف ورزی پر دلالت کرتی ہے۔