مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 21

21 گناہ اور کفارہ سب گناہ گار پیدا ہوتے چلے جائیں۔کون سا موقع یا امکان باقی چھوڑا گیا تھا نسل آدم کے لئے کہ وہ گناہ اور اس کے اثر سے بچ سکے ؟ اگر والدین کوئی غلطی کرتے ہیں تو ان کے معصوم بچے کیوں ہمیشہ کے لئے دکھ اٹھائیں اور ابد الآباد تک کے لئے خُسران مبین میں مبتلا ر ہیں ؟ جب یہ صورت احوال ہو تو کہنے والے کیوں نہ کہیں کہ خدا کیسے ناقص جذبۂ انصاف کا مالک ہے کہ وہ ان لوگوں کو بھی سزا دیتا ہے جنہیں اس نے بنایا ہی ایسا ہے کہ وہ خواہ گناہ سے کتنی ہی نفرت کریں وہ گناہ کے ار تکاب سے بچ ہی نہیں سکتے۔گناہ کو تو ان کی خلقت اور ساخت و پرداخت کا جز ولا ینفک بنا دیا گیا ہے۔آدم کے کسی بچے کے لئے کوئی موقع یا امکان ہے ہی نہیں کہ وہ معصوم بن سکے۔اگر گناہ ایک جرم تھا تو منطق کی رو سے یہ مخلوق کا نہیں خالق کا جرم شمار ہونا چاہیے۔ایسی صورت میں وہ کیسا انصاف ہے جو جرائم کو دوام بخشنے والے کی بجائے معصوموں کو سزا دینے کا تقاضا کرتا ہے؟ گناہ اور اس کے نتائج و عواقب کی مسیحی تفہیم سے کس قدر مختلف ہے قرآن کا اعلان جو کہتا ہے۔وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (فاطر :19) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا شخصية (البقرة:287) اللہ کسی رسوائے اس ( ذمہ داری) کے جو اس کی طاقت میں ہو کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتا۔گناہ اور کفارہ کے مسیحی نظریہ سے اگر موازنہ کیا جائے تو قرآن مجید کے یہ اعلانات روح انسانی کیلئے سرمدی نغمگی سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔اب ہم بائبل کے اس بیان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کا تعلق آدم اور حوا کے گناہ اور بطور پاداش انہیں ملنے والی سزا سے ہے۔چنانچہ بائبل میں لکھا ہے۔” پھر اس نے عورت سے کہا کہ میں تیرے درد حمل کو بہت بڑھاؤں گا۔تو درد کے ساتھ بچے جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہو گی اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔اور آدم سے اس نے کہا چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھانا اس لئے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی۔تکلیف دہ مشقت