مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 18

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 18 کفارہ صرف اور صرف وہ ادا کر سکتا ہے جو فی نفسہ گناہ سے پاک ہو۔کفارہ کی اس بنیاد سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عیسائیوں کی اپنی سمجھ اور تفہیم کے مطابق خدا کا کوئی نبی یار سول خواہ وہ نیکی اور پارسائی میں درجہ کمال کے کتنا ہی قریب پہنچا ہوا تھا بنی نوع انسان کو گناہ سے پاک نہیں کر سکتا تھا۔بالفاظ دیگر وہ انہیں گناہ اور اس کے نتائج و عواقب سے چھٹکارا نہیں دلا سکتا تھا۔وہ نبی یار سول ہونے کے باوجو د بیٹا تو بہر حال آدم ہی کا ہو تا تھا اس لئے وہ خود فطرت میں رچے ہوئے گناہ کے اثر سے بچا ہوا نہیں ہو تا تھا۔جب وہ پیدا ہو تا تھا تو گناہ کا بیچ اس کے اندر پہلے سے موجود ہو تا تھا۔سادہ الفاظ میں یہ ہے اس سارے عقیدہ کا لب لباب۔اب رہا یہ سوال کہ پھر انسان گناہ سے نجات کیسے حاصل کرے؟ سو مسیحی عالموں کی طرف سے اس کا جو حل پیش کیا جاتا ہے اب ہم اس کی طرف آتے ہیں۔بنی نوع انسان کی طرف سے کفارہ کی ادائیگی اس عقدہ لا نخل کو حل کرنے کے لئے مسیحی عقیدہ کی رُو سے خدا نے بالکل ایک نئی ایچ کا آئینہ دار منصو بہ اختیار کیا۔یہ بات واضح نہیں ہے کہ اس نے اس بارہ میں اپنے ” بیٹے“ سے بھی مشورہ کیا تھا یا نہیں یا یہ کہ ”باپ بیٹا دونوں کو ایک ساتھ ہی یہ منصوبہ سوجھا یا پھر یہ کہ یہ منصوبہ تمام تر ” بیٹے “ ہی کی سوچ کا نتیجہ تھا اور بعد میں باپ خدا نے اسے قبول کر لیا۔اس منصوبہ کے جو نمایاں خدو خال مسیح کے اس دنیا میں آنے پر منکشف ہوئے وہ یہ ہیں۔دو ہزار سال پہلے خدا کے بیٹے نے جو ازلی ہونے میں اس کا برابر کا شریک تھا ایک انسانی ماں کے بطن سے جنم لیا۔”خدا کا بیٹا ہونے کی حیثیت میں وہ کامل انسان اور کامل خدا ہر دو کی جملہ خصوصیات کو اپنے وجود میں جمع رکھتا تھا۔مزید بر آس ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ایک پاکدامن اور پار ساخاتون جس کا نام مریم تھا خدا کے بیٹے کی ماں بننے کے لئے منتخب کی گئی۔وہ خدا کے اشتراک سے حاملہ ہوئی۔اس لحاظ سے خدا کا حقیقی بیٹا ہونے کی حیثیت میں مسیح گناہ کے بغیر پیدا ہوا۔اس کے باوجود کسی نہ کسی طرح اس نے اپنی انسانی شخصیت کو بر قرار رکھا۔اور پھر اس نے رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کر دیا کہ وہ تمام انسان جو اس پر ایمان لے آئیں گے اور اسے اپنا نجات دہندہ تسلیم کر لیں گے وہ ان کے موروثی گناہ کا تمام تر بوجھ خود اٹھالے گا۔دعوی یہ کیا جاتا ہے کہ ذہانت کی آئینہ دار اس پر حکمت تدبیر سے خدا کو اپنے کامل عادل ہونے کی ازلی صفت کے بارہ میں مفاہمت کے رنگ میں کسی تخفیف و تنقیص سے دوچار نہ ہونا پڑا۔