مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 11

11 انیت صحیح کی اصل حقیقت کا تصور ہی خدا کی ہستی کے عالمگیر تصور یا نظریہ سے قطعاً کوئی میل نہیں کھاتا۔پس عیسائیت کے ایسے سراسر متناقض عقیدہ کو کوئی کیسے درست سمجھ سکتا ہے جو ہم سے اس بات پر ایمان لانے کا تقاضا کرتا ہے کہ ”ایک میں تین“ اور ”تین میں ایک“ کے درمیان کوئی فرق نہیں بلکہ یہ دونوں ہو بہو ایک ہی ہیں۔ایسا اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب کسی عقیدہ کی تمام تر بنیاد حقیقت کی بجائے سراسر بے اصل قصے کہانیوں پر اٹھائی جائے۔اسی پر بس نہیں حل طلب مسئلہ ایک اور بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر مریم کے بطن سے پیدا ہونے کی وجہ سے مسیح خدا کا بیٹا بن گیا تھا تو اس نئی پیدائش سے قبل اس کی حیثیت کیا تھی ؟ اگر وہ مریم کے بطن سے پیدا ہونے سے پہلے بھی خدا کا ازلی بیٹا تھا تو اسے جسمانی جسم میں مقید کر کے ولادت کے چکر میں ڈالنا کیوں ضروری تھا؟ اور اگر ایسا ہو نا ضروری تھا تو یہ اس امر پر دال ہے کہ اس کے بیٹا ہونے کی کیفیت و ماہیت ازلی نہ تھی بلکہ جب وہ انسانی جسم کو خیر باد کہہ کر آسمان کی طرف واپس لوٹ گیا تو وہ اضافی وصف بھی جاتارہا۔پس اگر دیکھا اور غور کیا جائے تو اس مسیحی عقیدہ سے ایک نہیں کئی الجھنیں جنم لیتی ہیں اور ان الجھنوں کی وجہ سے عقل عمومی اسے رد کیے بغیر نہیں رہتی۔میں پھر سب مسیحی حضرات کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ان الجھنوں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے ولادت مسیح کے ایک باعزت اور حقیقی منظر نامہ کو قبول کر لیں اور اس کی رو سے وہ اس حقیقت پر ایمان لے آئیں کہ خدا نے اپنے بعض مخفی قوانین قدرت کو بروئے کار لا کر تخلیق کے ایک غیر معمولی اور خاص ذریعہ سے مسیح کو ولادت بخشی۔مسیح تمثیلی اور استعارہ کے رنگ میں خدا کا بیٹا تھانہ کہ حقیقی رنگ میں۔حقیقی بیٹے کا تصور اس کی الوہیت اور وحدانیت کے سراسر منافی ہے۔تمثیلی رنگ میں اس کا بیٹا ہونے کی وجہ سے خدا نے اسے اپنی محبت خاص کا سزاوار ٹھہرایا۔اپنے اس امتیاز کے باوصف وہ ایک انسان ہی تھانہ کہ خدا۔رہا اس کا ابن اللہ ہونے کا تصور سو اس کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ مسیح کے قریبا تین سو سال بعد اس تصور کو اس کی ذات کے ساتھ اس لئے منسلک کیا گیا تا کہ ایک مافوق الفطرت طلسماتی داستان کے طور پر اس کا تذکرہ آئندہ بھی زندہ رہے۔حیات مسیح کے اس پہلو پر ہم بعد میں روشنی ڈالیں گے۔باپ خدا اور مریم کے درمیان ازدواجی رشتہ کا سوال ایک ایسا ناگوار سوال ہے جس پر کھلے بندوں بحث کرنے سے کون ہے جو کراہت محسوس نہ کرے تاہم باپ اور بیٹے کے مابین مریم کی درمیانی واسطہ والی حیثیت کو سمجھنے کی کوشش ایک ایسا معاملہ ہے کہ اس کے ذکر کو نا پسندیدہ ہونے کے باوجود یکسر نظر انداز