مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 12
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 12 کرنا بھی مشکل ہے۔غالباً یہی وہ سوال تھا جو مشہور جرمن فلاسفر نطشے (Nietzsche) کے لئے بہت خلجان کا موجب بنا اور آخر کار اس نے اس بارہ میں اپنی گھٹی اور دبی ہوئی بے اطمینانی کے اظہار کا ذریعہ ان الفاظ کو بنایا: زر تشت جب جادو گر سے مخلصی حاصل کر چکا تو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس نے دیکھا کہ جس راستہ پر وہ جارہا ہے اس کے ایک طرف پھر کوئی بیٹھا ہوا ہے وہ کالے رنگ والا ایک لمبے قد کا آدمی تھا جس کے تکان سے اترے ہوئے چہرہ کا رنگ زرد پڑ رہا تھا۔اس نے دل میں کہا ” افسوس انسان کے روپ میں یہ ایک اور آفت میر اراستہ روکے کھڑی ہے۔وضع قطع سے معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ کوئی پادری یا راہب قسم کا آدمی ہے۔اس یعنی زرتشت نے کہا ”اے راہ گیر ! تو جو کوئی بھی ہے ایک ایسے شخص کی مدد کر جو راستہ سے بھٹک کر ادھر آنکلا ہے یعنی مجھ ایسے بوڑھے کی جو اپنے آپ کو دکھ اور مصیبت میں مبتلا کرنے یہاں آوارد ہوا ہے۔“ راہ میں بیٹھے اس تھکے ماندے بوڑھے نے کہا ”یہاں کی دنیا مجھ بوڑھے کے لئے دور دراز کی ایک اجنبی دنیا ہے۔یہاں جنگلی جانوروں کی آوازیں مجھے سنائی دے رہی ہیں۔وہ جو مجھے پناہ دے سکتا تھا وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔میں ایک آخری پارسا انسان، روحانی بزرگ اور راہب کو تلاش کر رہا تھا جس نے اس جنگل میں رہنے کی وجہ سے وہ کچھ نہیں سنا جو ساری دنیا جانتی ہے۔“ زرتشت نے پوچھا ”ساری دنیا کیا جانتی ہے ؟ کیا تو یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ قدیم خدا جس پر ساری دنیا ایمان رکھتی تھی اب زندہ نہیں رہا۔“ بوڑھے نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ”ہاں بات یہی ہے۔میں نے اس قدیم خدا کی اس کے آخری لمحات تک خدمت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔اب میں اپنے آقا کی عدم موجودگی کے باعث خدمت گزاری کے فریضہ سے ریٹائر ہو چکا ہوں لیکن آزاد میں اب بھی نہیں ہوں اور نہ گھنٹہ بھر کے لئے بھی خوشی میرے قریب پھٹکتی ہے سوائے اس کے کہ میں پرانی یادوں میں ہی مگن رہتا ہوں۔میں ان پہاڑوں پر اس لئے چڑھ آیا تھا کہ میں آخر میں ایک بار پھر روحانی جشن منالوں کیونکہ ایک بوڑھے پوپ اور کلیسیا کے فادر کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ نیک یادوں اور مقدس عبادتوں کا جشن منائے