مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 115
باب ششم تثلیث اب تک ہم نے در پردہ اثر انداز ہونے والی ان مجبوریوں کا جائزہ لیا جو قصوں، کہانیوں اور اساطیر کے رنگ میں مسیح کو خدا کا درجہ دینے پر منتج ہوئیں۔اور یہی مجبوریاں موجب بنیں خدا کے بیٹے کی حیثیت سے تثلیث میں مسیح کے نام نہاد کر دار اور عمل دخل کو متعین کرنے کا۔لیکن اگر دیکھا جائے تو مسیحیت کے عقیدہ تثلیث کا ایک پہلو اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب اور انو کھاو نرالا ہے۔وہ پہلو یہ ہے کہ مسیح کو تو خدا کے بیٹے کی حیثیت دے کر خدا کی الوہیت میں شامل کیا گیا لیکن روح القدس کو کس مجبوری یا مصلحت کے تحت یہ درجہ دیا گیا۔آخر کس بنا پر اسے تیسرے اقنوم کی حیثیت دے کر تثلیث میں شرکت کا حق دار ہر ایا گیا۔اس کی یہ حیثیت اور ہستی بھی اپنی جگہ ایک معمہ یا چیستاں سے کم نہیں ہے۔سوال پیدا ہو تا ہے کہ ”باپ، بیٹے کی حیثیت سے ”ایک میں دو“ کا نظریہ کیوں ناکافی تھا؟ الوہیت کے بارہ میں مسیحیت کے بنیادی عقیدہ میں ایک تیسری ہستی کو بھی متعارف کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔دوسری کی طرح اس عقیدہ میں ایک تیسری ہستی کے آداخل ہونے اور اس میں اپنا مقام بنانے کا بھی کوئی منطقی جواز نہیں بنتا۔اس نظریہ یا عقیدہ کے ایک تبصرہ نگار ہار نیک (Harnack) کے نزدیک تو شروع شروع میں جب عقائد میں جدت کے عمل دخل کا آغاز ہوا تو مسیحیت خدا اور مسیح کے باہمی اشتراک یا ان کی دو عملی سے ہی عبارت تھی۔اس چکر یا گرداب میں کلیسیا بعد میں پڑا کہ روح القدس کو بھی الہی صفات کا حامل قرار دے کر اُلوہیت کو تثلیث کی شکل دی جائے۔خطرہ یہ تھا کہ ایسانہ کیا گیا تو بہت سے معتقدوں کے نزدیک وہ بھی اپنی جگہ ایک لایعنی اور مجہول قسم کی الوہیت کا حامل بنے بغیر نہ رہے گا۔ایسا لگتا ہے کہ یہودیوں سے اپنے آپ کو الگ اور م ، اور ممتاز کرنے کے لئے تثلیث کو ایک امتیازی عقیدہ کے طور پر اختیار کیا گیا اور ان کے مقابلہ کے لئے اسے ایک ہتھیار سمجھ لیا گیا۔11 جہاں تک تثلیث کے عقیدہ کی بنیاد کا تعلق ہے اس کے بارہ میں ایک مسیحی مقالہ نگار ریورنڈ 11 (The Constitution and Law of the Church in the First Two Centuries by Adolf Harnack۔p۔264)