مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 116
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 116 کے۔ای۔کرک (Rev۔K۔E۔Kirk) عقیدہ تثلیث کے زیر عنوان اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: قدرتی طور پر ہم اس زمانہ (یعنی جس زمانہ میں عقیدہ تثلیث نے معین شکل اختیار کی) کے لکھنے والوں اور ان کی تحریرات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تاکہ معلوم کر سکیں کہ وہ اپنے عقیدہ کی بنیاد اور وجوہات کیا بیان کرتے ہیں۔ہم حیران ہوئے بغیر نہیں رہتے اور ہمارے لئے یہ تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ ان کے ہاں نہ اس عقیدہ کی بنیاد کا کوئی پتہ ملتا ہے اور نہ استدلال کے رنگ میں اس کی وجوہات کا بیان کہیں نظر آتا ہے۔وہ جس سوال سے دوچار ہوئے وہ یہ نہیں تھا کہ تین اقنوم کیوں ہوں؟ بلکہ سوال در پیش صرف یہ تھا کہ تین اقنوم کیوں نہ ہوں ؟“ ریورنڈ کرک نے اپنے اس مضمون میں اس امر کی بطور خاص نشان دہی کی ہے کہ مسیحی دینیات اپنے عقیدہ تثلیث کا منطقی جواز پیش کرنے میں قطعی ناکام نظر آتی ہے۔مسیحیت کی سہ رکنی الوہیت کے بارہ میں کہا جاسکتا ہے کہ اصل میں تو یہ دور کنی الوہیت ہی کی تھی۔اس میں بعد ازاں ایک اور ہی نوعیت کی ہستی کو بھی تزئین یا آرائش کے طور پر ٹانک دیا گیا تا کہ تصویر یایوں کہہ لیں کہ تصور کے مکمل ہونے کا احساس ابھر سکے۔12 ہمیں یقین ہے کہ تیسرے اقنوم کے تصور نے نشو و نما ان ملحدانہ فلسفوں اور قصوں کہانیوں سے پائی جو سلطنت روما میں عام پھیلے ہوئے تھے۔ان ملحدانہ فلسفوں کے زیر اثر رفتہ رفتہ اس تیسرے اقنوم نے عقیدہ تثلیث میں جگہ پائی۔اس زمانہ میں دوسروں کے ساتھ تبادلہ خیالات نے مسیحی ماہرین دینیات کو اس طرف مائل کیا ہو گا کہ وہ بھی تیسرے اقنوم کی حیثیت سے تثلیث میں روح القدس کا مقام متعین کریں۔چونکہ اس زمانہ میں ایسے عقیدوں اور مسلکوں کی موجودگی کے کافی ثبوت ملتے ہیں جن کی روسے خدا کو تین علیحدہ علیحدہ ہستیوں پر مشتمل ایک ہستی تصور کیا جاتا تھا اس لئے کسی قدر کھوج لگا کر مسیحی عقیدہ تثلیث کے اصل منبع و ماخذ تک پہنچنا چنداں مشکل نہیں ہے۔بہر حال جب از روئے عقیدہ دو وجود باہم مل کر ایک ہو سکتے تھے اور ایک وجود کو فی ذاتہ دو متصور کیا جاسکتا تھا تو دوسروں کے زیر اثر ”تین کو بھی ”ایک تصور کرنے میں کیا قباحت ہو سکتی تھی۔یہ تو خیر محققین کا کام ہے کہ وہ تحقیق کر کے حتمی طور پر پتہ لگائیں کہ مسیحی دیو مالائی عقیدہ کے طور اُلوہیت کے تصور میں تیسرے اقنوم نے کب اور کس طرح جڑ پکڑی اور پھر یہ جڑ کیسے 12 (Essays on the Trinity and the Incarnation by A۔E۔J۔Rawlinson, Longmans, London, 1923)