مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 90

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 90 میں نہیں بلکہ انسان ہونے کی حیثیت میں ہوا۔اندریں صورت ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ان سے پوچھیں کہ صاف اور واضح طور پر نشان دہی کریں اور بتائیں کہ مسیح کی ذات میں کون ساحصہ انسان ہونے کا تھا اور کون ساحصہ وہ تھا جو اس کی الوہیت کا آئینہ دار تھا؟ تاکہ دونوں علیحدہ علیحدہ حصوں کے اعمال و افعال کو الگ الگ پر کھا جا سکے۔مسیح کی دو حیثیتوں کا عقدہ مسیح صاحبان کا اپنا پیدا کردہ ہے اسے اور اس کی الجھنوں کو وہ جانیں اور وہی انہیں حل کریں۔بظاہر حالات تو ہم یہی کہیں گے کہ جب دماغ زندہ ہوا تو انسانی عنصر ہی زندہ ہوا کیونکہ خدا کی ہستی اپنے آپ کو بر قرار رکھنے کے لیے مادی دماغ کی حاجت سے مبرا ہے۔مسیحیوں کے عقیدہ کے مطابق جہاں تک مسیح کی خدائی ہستی کا تعلق ہے زمین پر اپنے سابقہ عارضی قیام کے دوران اس نے اپنے اندر کسی مادی شے کو سنبھالنے اور سہارا دینے والے کا کر دار ادا کیا اسی کو دوسرے الفاظ میں ذریعہ یا واسطہ بننا کہتے ہیں۔لہذا مسیح کے دوبارہ جی اٹھنے سے مراد یہ ہوگی کہ اس کے اندر موجود انسان جی اٹھا۔اس کے بغیر اس کی روح کا دوبارہ اسی جسم میں واپس آنا ممکن ہی نہیں ہو سکتا تھا گویا کہ انسان ہی مرا اور (اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین قدرت کے برخلاف انسان ہی جی اٹھا اور جی اٹھا بھی مسیحیوں کے اعتقاد کی حد تک ! اس کے بغیر اس کی روح کا دوبارہ اسی جسم میں واپس آنا ممکن ہی نہیں ہو سکتا تھا۔اگر مسیحی صاحبان کے نزدیک یہ منظر نامہ (کہ انسان ہی مرا اور انسان ہی کے جی اٹھنے سے انسان ہی کی روح اس کے جی اٹھنے والے جسم میں دوبارہ واپس آئی) قابل قبول نہیں ہے تو پھر ہمیں ایک اور مسئلہ سے دو چار ہونا پڑے گا اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ماننا پڑے گا کہ زمین پر زندگی کے دوران مسیح کے دوز ہن تھے اور وہ تھے بھی ایک دوسرے سے مختلف اور آزاد۔مراد یہ ہے کہ مسیح میں ایک ذہن انسان کا تھا اور دوسرا ذہن خدا کا۔یہ دونوں ذہن ایک ہی محدود جگہ میں سمائے ہوئے تھے ورنہ تھے ایک دوسرے سے غیر متعلق اور آزاد۔ایسی صورت میں یہ سوچنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ انسانی ذہن کے لئے گنجائش پیدا کرنے کی خاطر مر جانے والے انسانی دماغ کی از سر نو تعمیر و تشکیل ضروری تھی۔بس اتنا ہی تصور کرنا کافی ہے کہ مسیح اپنی دوہری شخصیت کے ساتھ ذہنی اعتبار سے اسی کھوپڑی میں دوبارہ آموجود ہوا جو پہلے میزبان نما جسم کے انحطاط شدہ بچے کھچے بوسیدہ دماغی عضلات سے بھری ہوئی تھی۔جتنازیادہ گہرائی میں جاکر ہم اس مسئلہ کا جائزہ لیتے اور اسے غور و فکر کا مرکز بناتے ہیں تو تحقیق و تدقیق کے ہر ہر مرحلہ پر اتنے ہی زیادہ نئے سے نئے مسائل سر اٹھا کر الجھن میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں۔کسی مزید الجھن کی طرف اشارہ کرنے سے پہلے اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ خیالات و تصورات کا منبع و مخرج