مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 81
81 صلیب اور اس سے متعلقہ امور کرنے کی یہ مشقت طلب دوڑ دھوپ آخر کس لئے تھی؟ آخر اس کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی ؟ اس وقت جو نسخہ استعمال کیا گیا تھا وہ طب سے متعلق بو علی سینا کی مشہور کتاب "القانون“ میں درج ہے۔(ایسی کتابوں کی فہرست کے لئے ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 1)۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایک مردہ جسم کے زخموں پر مرہم لگانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔یہ بات صرف اس صورت میں قابل فہم قرار پاسکتی ہے کہ شاگردوں کے لئے یہ یقین کرنے کی مضبوط وجوہات موجود تھیں کہ مسیح کو صلیب پر سے مردہ حالت میں نہیں بلکہ زندہ حالت میں اتار لیا جائے گا۔مسیح کے حواریوں میں سے اکیلا یو حناہی ایک ایسا حواری ہے جس نے مرہم تیار کرنے اور اسے مسیح کے جسم پر ملنے کے جواز کے رنگ میں کچھ نہ کچھ وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔اس سے بھی اس امر کی مزید تائید ہوتی ہے کہ مردہ جسم پر مرہم لگانے کا عمل ایک عجیب و غریب حرکت کے مترادف تھا۔اور جس کی کوئی تو جیہہ ان لوگوں کے سامنے پیش نہیں کی جاسکتی تھی جنہیں یقین تھا کہ جب مرہم لگایا گیا تو مسیح مر چکا تھا۔یہی وجہ ہے کہ یوحنا حواری کو لوگوں کو مطمئن کرنے کی خاطر وضاحت پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔وضاحت تو کیا کر سکتا تھا اس نے باور یہ کرانے کی کوشش کی ہے کہ یہودیوں میں یہ رسم رائج تھی کہ وہ فوت ہو جانے والوں کے مردہ جسم پر مرہم یا اس قسم کی کوئی اور دو املا کرتے تھے۔یہ بات توجہ طلب ہے اور ہے بھی بہت اہم کہ زمانہ جدید کے تمام سکالرز جنہوں نے اس بارہ تحقیق کی ہے اس بات پر متفق ہیں کہ یوحنا یہودی النسل نہیں تھا اور اس کی مذکورہ بالا وضاحت سے ہی اس امر کی تصدیق ہو جاتی ہے۔یہ بات یقینی طور پر سب کو معلوم ہے کہ یہودیوں یا اسرائیل کی اولاد اور نسل میں یہ طریق ہی رائج نہیں تھا کہ وہ اپنے مرنے والوں کے مردہ جسموں پر مرہم یا سرے سے کوئی اور چیز ملیں۔جبھی تو محققین کا نظریہ یہ ہے کہ یوحنا حواری لازما یہودی النسل نہ تھا۔اگر وہ یہودی النسل ہو تا تو یہودیوں کے رسم و رواج سے اس درجہ نابلد نہ ہوتا۔اس سے ظاہر ہے کہ مرہم لگانے کی یقینا کوئی اور وجہ تھی۔مرہم فی الاصل لگایا ہی اس لئے گیا تھا تا کہ مسیح کو جو قریب المرگ نظر آتا تھا زندہ حالت میں بچایا جاسکے۔مرہم لگانے کی وضاحت صرف ایک ہی ہے اور وہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ نہ حواریوں کو یہ توقع تھی کہ مسیح مر جائے گا اور نہ فی الحقیقت صلیب پر اس کی موت واقع ہوئی۔صلیب پر سے اتارے جانے والے مسیح کے جسم پر زندگی کے مثبت آثار ظاہر ہوئے ہوں گے۔بصورت دیگر ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے مردہ جسم پر مرہم لگایا ایسا لایعنی کام کرنا انتہائی نامعقول، سر اسر نار وا اور لغو کام قرار پائے بغیر نہ