مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 80
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 80 جس کے نتیجہ میں خون فی الفور فوارہ کی طرح بہہ نکلے ممکن ہی نہ ہوتی۔زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا تھا کہ منجمد خون اور خون کے خلیے سنبھالنے والا سیال مادہ بہت آہستگی اور سست رفتاری سے رستا ہوا باہر نکلتا۔لیکن عہد نامہ جدید سے تو یہ تصویر نہیں ابھرتی۔انجیل تو کہتی ہے کہ خون اور پانی تیزی سے فی الفور باہر ابل پڑے۔جہاں تک پانی کے نکلنے کا تعلق ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ صلیب پر انتہائی کشیدہ حالت اور تکلیف دہ آزمائش کے ان گھنٹوں کے دوران پلور سی ( یعنی ذات لجنب یعنی سینہ کے اعضا اور پھیپھڑوں کی جھلی میں سوزش کی وجہ سے پانی بھرنے کی بیماری) رونما ہو گئی ہو۔عین ممکن ہے کہ صلیب پر لٹکے رہنے کے جسمانی دباؤ کی وجہ سے جھلی میں جمع شدہ پانی بھی ساتھ ہی باہر نکل آیا ہو۔یہ صورت حال عام حالات میں بہت تکلیف دہ اور خطر ناک ہوتی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے لیے یہ صورت ایک لحاظ سے مفید ثابت ہوئی کیونکہ جب اس کے پہلو کو بھالے سے چھیدا گیا تو سوجی ہوئی اور پانی سے بھری ہوئی جھلی نے ایک نرم گدی کا کام دیا ہو گا اور اس طرح سینہ کے اعضا چھیدے جانے سے محفوظ رہے ہوں گے۔خون کی آمیزش والا پانی بڑی تیزی سے اس لیے بہہ نکلا کہ دل صحیح طور پر کام کر رہا تھا۔مسیح کے اس وقت زندہ ہونے کی ایک شہادت اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ بائبل کے بیان کے مطابق جب صحیح کا جسم یوسف آف آرمتیاہ کے سپرد کیا گیا تو اسے فوراً ایک خفیہ جگہ میں منتقل کر دیا گیا۔وہ مر قد نما ایک کشادہ جگہ تھی۔اس کے اندر نہ صرف مسیح کے جسم کو رکھنے کی گنجائش تھی بلکہ اس کے اندر اتنی وافر جگہ اور بھی موجود تھی کہ دو اور آدمی بھی اس کے پاس بیٹھ کر اس کی خبر گیری کر سکتے تھے۔چنانچہ انجیل میں لکھا ہے: پس تب شاگر د اپنے گھروں کو واپس چلے گئے لیکن مریم مقبرہ کے باہر کھڑی روتی رہی اور جب روتے روتے مقبرہ کی طرف جھک کر اندر نظر کی تو دوفرشتوں کو سفید پوشاک پہنے ہوئے دیکھا جہاں یسوع کی لاش پڑی تھی۔“ (یوحنا باب 20 آیت 10 تا 12) بات اتنی ہی نہیں ہے۔عہد نامہ جدید کی عبارت ہمیں اس امر سے بھی مطلع کرتی ہے کہ ایک مرہم جو پہلے سے تیار کیا ہوا تھا مسیح کے زخموں پر لگایا گیا۔( یوحنا باب 19 آیت 40,39) یہ جسے مسیح کے شاگردوں نے تیار کیا تھا مختلف دواؤں کے ایسے اجزا پر مشتمل تھا جو زخموں کو مندمل کرنے اور درد کی تکلیف کو دور کرنے کی خاصیت اپنے اندر رکھتے تھے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دواؤں کے دوچار نہیں بارہ اجزا جمع