مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 72
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 72 طرح خود مسیح کو صلیب دیئے جانے اور اس کے معابعد کے حقائق کی روشنی میں اسے اچھی طرح جانچا اور پر کھا جاسکتا ہے۔واقعۂ صلیب سے بہت پہلے ہی مسیح نے وعدہ کے رنگ میں کہا تھا کہ یونس نبی کے نشان کے سوا اس زمانہ کے لوگوں کو اور کوئی نشان نہیں دکھایا جائے گا۔چنانچہ عہد نامہ جدید میں مذکور ہے: اس پر بعض فقیہوں اور فریسیوں نے جواب میں اس سے کہا اے استاد ! ہم تجھ سے ایک نشان دیکھنا چاہتے ہیں۔اس نے جواب دے کر ان سے کہا اس زمانہ کے برے اور زناکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔کیونکہ جیسے یوناہ (یونس) تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابن آدم تین دن رات زمین کے اندر رہے گا۔نینوں کے لوگ عدالت کے دن اس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کو مجرم ٹھہرائیں گے کیونکہ انہوں (نینوں کے لوگوں) نے یوناہ کی منادی پر توبہ کر لی اور دیکھو یہاں وہ ہے کہ جو یوناہ سے بھی بڑا ہے۔“ متی باب 12 آیات 38 تا 41) سو قبل اس کے کہ ہم یہ طے کریں کہ مسیح کے ساتھ کیا گزری ہمیں پہلے یہ جانا اور سمجھنا چاہیے کہ یونس نبی پر کیا بیتی تھی۔کیونکہ مسیح نے یہ دعوی کیا تھا کہ اب بھی وہی معجزہ دہرایا جائے گا۔یونس نبی کو جو نشان دیا گیا تھاوہ کیا تھا؟ کیا وہ مچھلی کے پیٹ میں مر گیا تھا اور بعد ازاں مرکر دوبارہ جی اٹھا تھا؟ تمام کے تمام عیسائی، یہودی اور مسلمان علماء اس بات پر متفق ہیں کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا وہ زندگی اور موت کے درمیان امید و بیم کی حالت میں معلق رہا۔اس خطر ناک صورت حال سے اسے معجزانہ طور پر بیچا لیا گیا وگرنہ کوئی اور شخص ہو تا تو ایسی حالت میں موت سے نہ بچ سکتا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔خدائی حکم کے تحت انسانی فہم و ادراک سے بالا بعض قوانین قدرت کی کار فرمائی نے اسے موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا۔یاد رہے اس وقت یہ امر زیر بحث نہیں ہے کہ ایسا ہونا ممکن تھا یا نہیں۔ہم صرف یہ بتارہے ہیں کہ مسیح نے جب یہ کہا تھا کہ اس کے اپنے ساتھ بھی وہی کچھ ہو گا جو یونس کے ساتھ ہوا تھا تو اس سے اس کی مراد یہی ہو سکتی تھی کہ ہر شخص کی نگاہ میں جو یونس کے ساتھ ہوا تھا وہی کچھ مسیح کے معاملہ میں بھی ہو گا۔پوری دنیائے یہودیت میں (اس سے مراد خواہ یہودیہ کی سرزمین لے لیں اور خواہ اس میں ان تمام علاقوں کو بھی شامل کر لیں جن میں پھیل کر یہودی جا آباد ہوئے تھے) کسی ایک یہودی نے بھی مسیح کے اس