مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 55

55 گناہ اور کفارہ اور ان کی وجہ سے رونما ہونے والی دردانگیز کیفیت یا احساس جرم کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔مسیح پر تو ان دونوں میں سے کوئی بات بھی صادق نہیں آتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ خود معصوم اور بے گناہ ہوتے ہوئے کسی اور شخص کے جرم کی سزا کو خود اپنے لئے قبول کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں تو پھر ضمیر کے کچوکوں اور ان کی درد انگیز کیفیت کے ابھرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا بلکہ ہوتا یہ ہے کہ اس سے یکسر متضاد صورت حال ابھر کر سامنے آتی ہے۔نیکی کمانے والے ایسے آدمی کی روح میں تو قربانی و ایثار کے ذاتی اور شخصی مظاہرہ کے زیر اثر طمانیت بخش سعادت میسر آنے کا پر مسرت احساس جنم لیا کرتا ہے۔اور یہ احساس خود اپنی جگہ دوزخ پر نہیں روحانی جنت پر دلالت کرتا ہے۔اب ہم ذرا اس جسم کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جسے مسیح نے اپنے لیے اختیار کیا اور ایسا اختیار کیا کہ خود اس کے اندر سما گیا۔اس ضمن میں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس جسم کے تعلق میں موت کے کیا معنی ہوں گے اور اس کے دوبارہ جی اٹھنے کا کیا مطلب لیا جائے گا۔عقل و شعور اور علم کا تقاضا تو یہ ہے کہ مسیح کے جسم کو ” ابنیت مسیح کا جزولاینفک ہونا چاہیے۔بصورت دیگر اس امر کی کوئی مشتر کہ بنیاد بنتی ہی نہیں کہ جس کی روسے اس کی الوہیت اور انسانی حیثیت دونوں باہم مجتمع ہو کر ایک دوسرے میں مدغم ہوں اور پھر ساتھ کے ساتھ بعض مخصوص حالات میں امتیازی طور پر ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کے کردار ادا کریں۔بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسیح کے وجود میں موجود انسان تمام معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے کر انہیں کنٹرول کر رہا ہے جس سے یہ لازم آتا ہے کہ اس جسم کی اپنی ایک علیحدہ روح ہے۔برخلاف اس کے بعض اوقات ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اُلوہیت خود براہ راست اثر انداز ہو کر انسان کے دل و دماغ اور صلاحیتوں کو ایک خاص نہج پر چلا رہی ہے۔لہذا ہم باصرار یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ ایسا اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب ایک دوسرے سے ممیز و ممتاز دو علیحدہ علیحدہ شخصیتیں باہم ایک ہی وجود میں مقید ہو کر ایک دوسرے کا جز ولا ینفک بن گئی ہوں۔مسیح کے تعلق میں موت کا مفہوم و مطلب اس امر کی مختلف امکانی صورتوں کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد کہ مسیح کی شخصیت میں الوہیت اور انسانیت نے باہم دگر کیا کیا کردار ادا کیے ہوں گے۔اب ہم صحیح کے بارہ میں لفظ ”موت“ کے اطلاق اور پوری جامعیت کے ساتھ اس کے ہمہ گیر معانی کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔