مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 54
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 54 ہوا یہ ہو گا کہ مسیح نے مرنے کے بعد جس انسانی جسم میں بسیرا کیا ہو گا اسے مسیح کے لیے دوبارہ جسم کی شکل دی گئی ہو گی تا کہ وہ جسم دوزخ کی اذیت جھیلنے میں مسیح کے لیے ذریعہ اور واسطہ کا کام دے سکے۔اگر اس صورت حال کو ہم درست تسلیم کر لیں تو پھر اس امر کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ ایسا کرنا آسمانی یا الو ہی اصول انصاف کو ایک اور دھچکا پہنچانے کے مترادف ہو گا۔پہلی بات تو یہ سامنے آئے گی کہ ایک اجنبی روح نے اس مادی جسم کو زندگی بھر کے لئے اغوا کیا اور اسے مجبور کیا کہ وہ اسے ( یعنی اس اجنبی کو ) اپنے اندر سکونت پذیر ہونے دے۔اس بے چارے جسم کو اس فراخ دلی اور مہمان نوازی کا صلہ جس کی ذمہ داری اس پر زبر دستی تھوپی گئی تھی یہ ملا کہ اس امر کے باوجود کہ اس نے سرے سے کوئی گناہ ہی نہیں کیا دوزخ کی آگ میں جلے۔اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ اس بے قصور جسم نے طوعاً و کرہاجو قربانی پیش کی اس کا سہرا اس جسم پر قبضہ جمانے اور اس میں زبر دستی سکونت پذیر ہونے والے نے باندھ لیا اپنے سر۔پھر سوال یہ پیدا ہو گا کہ جس انسان کا وہ جسم تھا اس کی روح کا کیا بنا؟ پھر شاید یہ ماننا پڑے کہ اس کی اپنی کوئی روح تھی ہی نہیں۔اگر واقعی اس کی اپنی کوئی روح نہ تھی تو پھر مسیح کی شخصیت میں موجود انسان اور خدا دونوں کو ایک ہی وجود ماننا پڑے گا اور یہ نظریہ کہ کبھی تو مسیح سے انسانی جذبوں کے تحت اعمال سر زد ہوتے تھے اور کبھی وہ خدا کی مرضی و منشا کے مطابق اعمال بجالاتا تھا مداری کا کھیل بن کر رہ جائے گا۔ذہن کے لئے قابل قبول فارمولا یہی ہے کہ ایک روح اور ایک جسم کے باہم یکجا ہونے سے ایک انسان وجو د میں آتا ہے۔سو گویا ایک روح اور ایک جسم کے مجموعے کا انسان ہے۔ایک جسم میں بیک وقت دو روحیں موجود ہونے کا نظریہ ایک انوکھا نظریہ ہے۔ایسے انوکھے نظریہ کو وہی لوگ تسلیم کر سکتے ہیں جو ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں کہ جن بھوت اور اسی نوع کی دوسری بلائیں لوگوں پر اپنا تسلط جما کر ان سے عجیب و غریب حرکات کرواتی ہیں۔خدا کی قربانی اور روحانی عظمت عین ممکن ہے کہ دوسری صورت مسیحی عالموں کے نزدیک زیادہ قابل قبول ہو یعنی یہ کہ مسیح کی روح ہی دوزخ میں داخل ہوئی تھی اور وہ دوزخ بھی مادی نہیں بلکہ روحانی نوعیت کی تھی۔اگر ایسا ہی تھا تو بادی النظر میں تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہم اس نظریہ کو نا معقول قرار دے کر مسترد کر دیں۔لیکن ذرا تدبر سے کام لیا جائے تو یہ مشکل آڑے آئے بغیر نہیں رہتی کہ روحانی نوعیت کی دوزخ تو ضمیر کے کچوکوں