مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 29

29 گناہ اور کفارہ آئیے ہم ذرا غور کریں قرضے اور اس کی واپسی کے ایک مفروضہ پر۔فرض کیجیے ایک مقروض نے جس کا نام الف ہے ایک ب نامی شخص کے ایک لاکھ پونڈ دینے ہیں۔اگر عوامی فلاح کے کاموں میں حصہ لینے کا ایک خواہش مند مالدار شخص جس کے ہوش و حواس درست ہیں اور جو واقعی اس مقروض کو قرض کے بوجھ سے نجات دلانے میں سنجیدہ ہے تو ہر جگہ کے مروجہ قانون اور عام دستور کا تقاضا یہ ہے کہ ب نے جور قم الف سے لینی ہے وہ مالدار شخص پوری کی پوری وہ رقم ب کو اپنے پاس سے ادا کر دے۔فرض کیجئے غریبوں اور ناداروں کا وہ بہی خواہ کو قرضہ کی پوری رقم دینے کی بجائے آگے آکر کہتا ہے الف نے ب کو قرضہ کی جو رقم ادا کرنی ہے اس کے بوجھ سے الف کو تو سبکدوش کر دیا جائے لیکن اس کے عوض مجھ سے اتنی ہی رقم کا مطالبہ کرنے کی بجائے مجھے مارنے پیٹنے کی شکل میں کچھ جسمانی سزا دے دی جائے یازیادہ سے زیادہ مجھے تین دن رات کے لئے قید خانہ میں ڈال دیا جائے۔یہ تو ہے ایک فرضی قصہ لیکن اگر ایسا واقعہ حقیقتاً اس دنیا میں پیش آہی جائے تو کیا حیرت زدہ حج اور بھونچکا ہو جانے والے غریب قرض خواہ ب کی حالت دیکھنے والی نہ ہو گی لیکن غریبوں کے جس بہی خواہ اور ہمدرد کا قصہ ہم بیان کر رہے ہیں اس کی گزارش ابھی مکمل نہیں ہوئی۔وہ مزید مطالبہ پیش کرتے ہوئے کہتا ہے اے میرے آقا! اپنی اس قربانی کے عوض میں یہی کچھ نہیں مانگنا چاہتا بلکہ میری گزارش یہ بھی ہے کہ اے آقا! تیری مملکت میں جتنے بھی مقروض موجود ہیں یا آئندہ آخری زمانہ تک مزید پیدا ہونے ہیں ان سب کو میری تین دن رات کی دکھ تکلیف کے عوض قرضوں کی ادائیگی سے بری الذمہ قرار دے دے۔کیسا انوکھا مطالبہ ہے! اسے سن کر دماغ گھوم نہ جائے تو اور کیا ہو۔گناہ اور کفارہ کی مسیحی تفہیم پر یہ سارا معاملہ ہو بہو صادق آتا ہے۔اس پر غور کر کے جی چاہتا ہے کہ مسیحیوں کے عادل اور منصف خدا سے عرض کیا جائے کہ جن لوگوں کو ان کی محنت کے ثمرات سے محروم کر دیا گیا تھا اور جن سے ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی چھین لی گئی تھی انہیں پورا نہ سہی کچھ نہ کچھ معاوضہ تو ملنا چاہیے تھا۔لیکن معمولاً ایسا ہوتا ہے کہ مسیحی خدا ان معصوموں کے مقابلہ میں جو مجرموں کے ہاتھوں دُکھ اٹھاتے اور صدمے سہتے ہیں الٹا مجرموں پر زیادہ مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔بلاشبہ یہ بہت ہی عجیب و غریب تصور ہے عدل کا جس کے نتیجہ میں ڈاکوؤں، بچوں سے نارواسلوک کرنے والوں، معصوموں کو اذیتیں دینے والوں اور انسانیت کے خلاف ہر قسم کے وحشیانہ جرائم کا ارتکاب