مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 144
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 144 تعصبات سے بالا ہو کر پوری سنجیدگی سے یسوع مسیح کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔اسے شناخت کرنے میں ناکام رہ کر یہود کا معاملہ ان بے شمار انواع و اقسام کی نامیاتی مخلوق جیسا ہو جاتا ہے جو تاریخ ارتقا کی اتھاہ گہرائیوں میں مدفون پڑی ہیں اور اب وہ درخت حیات کے بڑھنے اور اس کے چوٹی تک پہنچنے کے ارتقائی عمل میں کوئی اہم اور نمایاں کردار ادا نہیں کر رہیں۔اپنی اس حالت میں وہ تاریخ کے ایک بچے کھچے غیر اہم حصہ کے طور پر شمار تو ہوتی ہیں لیکن وہ اپنے وجود کے ایک بہت تنگ دائرہ میں ہی زندہ و موجود رہنے پر مجبور ہیں۔پھر مسیحیوں کا معاملہ بھی یہودیوں کے معاملہ سے چنداں مختلف نہیں ہے۔وہ ان سے صرف ایک قدم آگے ہیں۔اور تاریخی و زمانی ترتیب کے لحاظ سے اسلام کے ذرا زیادہ قریب ہیں۔بایں ہمہ یہ بات اپنی جگہ بہت اہم ہے کہ یسوع مسیح کے اصل راستہ سے منحرف ہونے کے بعد انحطاط کی طرف لے جانے والے اس راستہ پر پڑ کے جو ابتدا پولوس نے متعین کیا تھا اس راستہ نے مسیحیوں کو یہودیوں سے بھی کہیں زیادہ اسلام سے دور کر دیا۔یہودیوں نے اپنے وجود میں آنے پر چار ہزار سال گزارنے کے باوجود اور کچھ نہ سہی کم از کم توحید کا سبق بڑی پختگی سے سیکھ لیا ہے جو کسی بھی مذہب میں روحانی زندگی کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔لیکن بعض بنیادی عقائد میں اسلام سے اس قربت کے باوجود بعض دوسرے عوامل ایسے ہیں جنہوں نے انہیں بہت بڑی تعداد میں قبول اسلام سے انکار پر مصر رہنے میں سنگ خارا بنا چھوڑا ہے۔غور و فکر کے آئینہ دار اس مطالعہ کے نتیجہ میں میں یہ یقین کرنے پر مجبور ہوں کہ جب تک یہود اپنی افتاد طبع اور طرز فکر میں وہ تبدیلی پیدا نہیں کریں گے جس کا پیدا کرنا مسیح کی آمد اول کو سمجھنے اور شناخت کرنے کے لئے ضروری ہے وہ بعض عقائد میں مسلمانوں کے ساتھ یکسانیت کے باوجود اسلام سے مسیحیوں سے بھی زیادہ دور اور پرے رہیں گے۔انہوں نے اپنے اور حضرت محمدصلی ا ظلم کی بعثت کے درمیان تعلق یا رابطہ قائم کرنے والی نہایت اہم کڑی یسوع مسیح کو ہی اپنے ہاتھ سے گنوادیا۔آسمانی صداقت کے اس انکار اور صریح استر داد نے انہیں ایسا پتھر دل بنا دیا ہے کہ وہ نفسیاتی طور پر کوئی نیا پیغام قبول کرنے کی صلاحیت سے ہی بے بہرہ ہو چکے ہیں۔مسیح آکر جا بھی چکا ہے اور وہ ہیں کہ ہنوز مسیح کی آمد کا انتظار کیے جارہے ہیں۔ایک دفعہ اسے شناخت کرنے میں ناکام رہنے کے بعد اس کا بہت ہی کم امکان ہے کہ وہ اس کی آمد ثانی میں اسے شناخت کر لیں گے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مقدر ہی یہ ہے کہ وہ خوابوں میں بسے ہوئے اپنے مسیحا کا ابد تک انتظار کرتے رہیں۔