مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 143
143 مسیحیت کا ارتقا حیثیت رکھتا ہے جس سے اس کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے۔الہذا مذ ہب کے تعلق میں تاریخی رجحان کی ترقی کو دو حلقوں کی نسبت سے مختصر آیوں بیان کیا جا سکتا ہے: 1۔نازل ہونے والی تعلیموں کی درجہ بدرجہ ترقی پذیر تفصیل و توضیح اور اپنے محدود دائرہ میں نسبتی لحاظ سے ان کی مرحلہ وار تکمیل۔2۔تعلیم کے نسبتاً چھوٹے درجہ سے بڑے اور وسیع تر درجہ کی طرف ترقی پذیر منتقلی اور اس کا تکمیلی مرحلہ مذہب کے تسلسل کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو مذہب آدم پر ظاہر کیا گیا تھا وہی مذہب گرہ ارض پر پھیلنے والے تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کرتا چلا گیا اور اس میں درجہ بدرجہ ترقی پذیر تبدیلی آتی چلی گئی اور اس طرح اس کے دائرہ ہدایت اور دائرہ خطابت میں وسعت پیدا ہوتی رہی بلکہ مذکورہ تسلسل سے مطلب یہ ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں جو تہذیبیں جڑ پکڑتی اور پنپتی رہیں وہاں الہام الہی کے نتیجہ میں ایسے مذاہب معرض وجود میں آتے رہے جو دنیا کے ان حصوں میں انسان کی معاشرتی ترقی سے ہدایت و رہنمائی کے رنگ میں مناسبت رکھتے تھے۔ایسے تمام مذاہب حسب ضرورت جہاں جہاں بھی معرض وجود میں آئے وہ اسی انداز اور اسی سمت میں ترقی کرتے رہے۔مذہبی ترقی کی معراج ہمارے یقین اور ایمان کے مطابق متعدد حیثیتیں رکھنے والے ایسے ہی مذاہب میں سے ایک مذہب مشرق وسطی کے علاقہ میں پرورش پارہا اور پنپ رہا تھا۔جو ایسے بڑے بڑے مذاہب کو معرض وجود میں لانے کا موجب بنا جنہوں نے دنیا میں مذہبی عروج و ارتقا کے حق میں بنیاد کا کام دینا تھا۔مذہبی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ یہودیت کے بعد عیسائیت اور پھر اسلام کا یکے بعد دیگرے آنا مذہبی تعلیم کے ارتقا کی سمت کو اجاگر کیسے بغیر نہیں رہتا۔ان مذاہب کے مطالعہ سے ان کی تعلیموں میں آگے کی سمت یا پیچھے کی سمت حرکت (یعنی پیش قدمی یا پسپائی کا بآسانی پتہ لگایا جاسکتا ہے اور ان میں پائے جانے والے باہمی ربط کو بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔لہذا سلسلہ وار رونما ہونے والے احوال و واقعات کے اس عظیم منصوبہ کے مالہ وماعلیہ کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے جس نے ان تعلیموں کو درجہ کمال تک پہنچانے پر منتج ہونا تھا اور جو فی الحقیقت ان تعلیموں کی معراج کے طور پر ایک عالمگیر مذہب یعنی اسلام کے ظہور پر منتج ہو کر رہا۔اس سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات یہودیوں کے اپنے حق میں ہے کہ وہ ہر قسم کے