مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 142
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 142 اسے پورا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھار کھی۔زندگی بھر اس نے صرف اور صرف خدا کی عبادت کی اور کسی فانی انسان سے اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ اس کے اپنے آگے یا اس کی ماں کے آگے یاروح القدس کے آگے جھکے اور ان کی عبادت کرے۔یہ ہے مسیح کی اصل حقیقت جس کی طرف ہم تمام فرقوں اور گوناگوں عقیدوں کی طرف منسوب ہونے والے مسیحیوں کو واپس لوٹنے کی دعوت دیتے ہیں۔مذہب کا تسلسل ہم مذہب کے تسلسل اور اس کی آفاقیت پر ایمان رکھتے ہیں اور مذہب کی اس آفاقیت کی وجہ سے ہی ہم مقام نبوت کو ایک آفاق گیر مظہر حقیقت یقین کرتے ہوئے اس کی اہمیت پر بہت زور دیتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک خدا کی طرف سے مبعوث ہونے والے تمام نبیوں کو تسلیم کرنا اور ان پر ایمان لانا ضروری ہے۔زمرہ انبیاء میں سے کسی ایک نبی کا انکار جملہ انبیاء کے انکار کے مترادف ہوتا ہے۔در حقیقت انسان نبیوں کے آگے سر تسلیم و اطاعت اس لئے خم کرتا ہے کہ وہ سب ایک ہی خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ صرف اور صرف اس کی عبادت کی طرف نوع انسانی کو بلاتے ہیں۔اس سیاق و سباق میں تسلسل ” کے لفظ کو بایں معنی سمجھنا چاہیے کہ جیسا کہ دو چیزوں میں ایک جیسی کیفیت اور بنیادی نوعیت کی یکسانیت پائی جاتی ہے۔مذہب کے اس تسلسل سے زندگی یعنی حیات میں پائی جانے والی ارتقائی کیفیت ہر گز مراد نہیں ہے۔ہم تمام شعبوں میں انسانی جد وجہد کی عمومی ترقی کے مطابق قدم بہ قدم ملنے والے پیغام کی ترقی پذیر کیفیت کے قائل ہیں۔ظاہر یہ ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے آنے والے مذاہب کی ابتدائی شکلیں اگر چہ ایک ہی نوعیت کی بنیادی تعلیمات پر مشتمل ہوتی تھیں لیکن تفصیلی ہدایات کے اعتبار سے وہ حسب حالات و حسب ضرورت نسبتا چھوٹے دائروں پر محیط ہوتی تھیں۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حسب ضرورت اوامر و نواہی کی تعداد محدود ہوا کرتی تھی۔پھر رفتہ رفتہ ان اوامر و نواہی کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور یہ انسانی جہد و عمل اور جدوجہد کے وسیع تر حلقوں یا میدانوں پر محیط ہوتی چلی گئی۔مزید بر آں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جن مذاہب کا تعلق قدیمی تہذیبوں سے تھا ان کے مخاطب خاص قبیلوں یا برادریوں یا علاقوں کے لوگ ہوتے تھے۔ان کے لائے ہوئے پیغام کی نوعیت بھی علاقے ، وقت اور زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق محدود ہوتی تھی۔اس لحاظ سے انہیں قبائلی، گروہی یا قومی مذہب قرار دیا جاسکتا ہے۔بنی اسرائیل اور دیگر یہودیوں کو جو تعلیمات ملیں ان کا معاملہ ایک بہت مناسب اور کار آمد مثال کی