مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 124
میسحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 124 تین جڑواں روحانی ہستیوں کا مسئلہ تو پھر بھی قائم رہے گا۔اپنی انفرادی حیثیت میں وہ علیحدہ علیحدہ ہستیاں ہوں گی اور اس کے باوجود ہر لحاظ سے وہ ہوں گی ایک اور اکیلی ہستی کے مترادف۔مفروضہ کے طور پر ایک جیسی تین جڑواں ہستیوں کی موجودگی تسلیم کرنے کی صورت میں ایک مسئلہ اور بھی پید اہو گا اور وہ ہو گا عبادت کے معاملہ میں ان تینوں کے باہمی رشتہ اور تعلق کا۔کیا خدا کی ہستی میں موجود ” ایک میں تین“ کی مصداق روحانی شخصیتیں بھی ایک دوسرے کی عبادت کریں گی؟ اگر یہ کہا جائے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی جگہ خدا ہوتے ہوئے باہم ایک دوسرے کی عبادت سے مبرا ہوں گی تو پھر سوال پیدا ہو گا کہ کیا وہ ایک دوسرے کی عبادت سے مبرا ہوتے ہوئے اس بات کی سزاوار ہوں گی کہ ان کی مخلوق ہستیاں ان کی عبادت کریں ؟ اگر چہ عہد نامہ جدید میں بار بار اس بات کا ذکر آتا ہے کہ مسیح خدا کی عبادت کر تا تھا اور دوسروں کو بھی خدا ہی کی عبادت کرنے کی تلقین کیا کرتا تھا لیکن روح القدس کے بارہ میں ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا کہ وہ بھی ”باپ خدا کی عبادت کرتا تھا۔مزید بر آس عہد نامہ جدید میں بار بار اس امر کا بھی کوئی ذکر موجود نہیں ہے کہ مسیح نے کبھی دوسروں کو یہ تلقین کرنے کی کوشش کی ہو کہ وہ خود اس کی یا روح القدس کی عبادت کریں۔”باپ خدا کی عبادت کے سوا کسی اور کی عبادت کے ذکر کا سرے سے مفقود ہونا ایک ایسا امر ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے اندر خدائے واحد کی عبادت کا ایک شوق آفریں جذبہ محسوس کرتا ہے۔ہر چند کہ ایک عام رواج کے طور پر اب عیسائیوں کا دستور العمل یہی ہے کہ وہ ”باپ خدا“ کے ساتھ اس کے بیٹے کی بھی عبادت کرتے ہیں تاہم اس کی ضبط تحریر میں آئی ہوئی ریکارڈ شدہ کوئی مثالیں یا واقعاتی شہادتیں موجود نہیں ہیں کہ یسوع مسیح کے شاگردوں میں سے کبھی کسی نے اس کی (یعنی مسیح کی ) عبادت کی ہو یا یہ کہ مسیح نے زمین پر اپنے عارضی قیام کے دوران انہیں ایسا کرنے کی ترغیب دلائی ہو۔اگر اس نے ایسا کیا ہو تا تو ایسے سوال ضرور پید اہوتے جن کا کوئی جواب نہ بن پڑتا۔یہی بات روح القدس کے بارہ میں بھی صادق آتی ہے یعنی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ روح القدس نے بھی کیوں کسی سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ اس کی عبادت کریں۔اس معاملہ پر کہ وہ بایں معنی ایک میں تین تھے کہ ان کا اپنی ہستی کا شعور ایک ہو گیا تھا پہلے ہی خاصی تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔ایسی صفات کے حامل وجودوں کو جو اپنی علیحدہ ہستی کا شعور رکھتے ہوں منطقی طور پر ایک میں تین شخصیتوں“ کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔مزید بر آں نہ ایک ہستی کے مختلف پہلوؤں