مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 119
119 تثلیث وہ ایک مجسم رحم کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے یعنی یہ کہ خدا کی صفت رحم نے یسوع کی شکل میں جسم اختیار کر لیا۔خدا کی صفت رحم کے کسم اختیار کرنے کی وجہ سے وہ شخص بنارہا خدا کی ایک اور اکیلی غیر منقسم تجسم ہستی۔سو اس ترس کھانے اور قربانی دینے کے نتیجہ میں اگر کسی کی جان گئی تو خود خدا کی اپنی ہستی کی گئی یا کم از کم اس کی صفت رحم کی گئی جس نے کہ اس سارے معاملہ میں بنیادی اہمیت کا کردار ادا کیا۔پس ان دو باتوں میں سے ایک بات پر ایمان لائے بغیر چارہ نہیں رہتا کہ یا تو خدا کی صفت رحم پر موت وارد ہوئی یا خود خدائے رحیم و کریم کی اپنی ذات پر۔اس دعویٰ کو درست تسلیم کرنے سے کہ ایک اکیلی شخصیت کے مختلف پہلو عارضی طور پر یا مستقل طور پر مٹ کر محو ہو سکتے ہیں بہت سی پیچیدگیوں کا پیدا ہونا لازمی ہے۔اس منظر نامہ کو انسانی تجربہ پر منطبق کر کے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ایک آدمی اپنی بینائی یا سماعت سے عارضی یا مستقل طور پر محروم ہو سکتا ہے۔اس محرومی یا نقص کے باوجود وہ رہے گا پہلے ہی کی طرح ایک زندہ اور جان دار انسان۔سو گویا ایک صلاحیت یا استعداد کی موت اس انسان کی جزوی موت ہوتی ہے۔آخری تجزیہ کی رو سے کسی ایک صلاحیت سے محروم ہو جانے والا شخص اپنی اسی واحد ہستی کا مالک رہتا۔ابدیت میں شریک مختلف ہستیاں دوسرا منظر نامہ یہ ہے کہ تثلیث کے اقانیم تین مختلف وجود تھے جو بیک وقت ابدیت میں یکساں طور پر شریک تھے۔تو پھر سوال پیدا ہو گا کہ ان کا آپس میں تعلق یا رشتہ کیا ہے۔اگر وہ دوامی حیثیت رکھنے والے تین وجود تھے اور انہوں نے مل کر ایک خدا کی حیثیت اختیار کر رکھی تھی تو پھر مانا پڑے گا کہ وہ اپنی اپنی جگہ ذاتی انا اور خودی کے بھی مالک تھے۔اس لحاظ سے ایک کا دکھ اٹھانا(اگر دکھ اٹھانا ان کے لئے ممکن مانا جائے) اس کا اپنا ذاتی تجربہ ہو گا۔باقی دو شخصیتیں اس کے ساتھ ہمدردی تو کر سکتی ہیں لیکن دکھ اٹھانے میں فی الحقیقت اس کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتیں۔یقینا خدا کے خیالات اور ان کے بروئے کار آنے کے طریق کار نیز خدا کے فیصلہ کرنے کے انداز کو سمجھنا قریب نا ممکن ہے۔لیکن یہ دعوی کہ تین ہستیاں ایک ہستی کے طور پر ڈھلی ہوئی ہیں اس امر کا جواز پیدا کر دیتا ہے کہ تینوں کے ایک دوسرے سے آزاد طریقہ ہائے خیالات میں باہمی ربط جاننے کی کوشش کی جائے۔اس نظریہ سے کہ تینوں آزاد طریقہ ہائے خیالات کی تین ہستیاں ایک ہستی میں ڈھلی ہوئی ہیں جو