مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 120
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 120 منظر نامہ اُبھرتا ہے وہ ایک ایسے بچہ کی پیدائش کے منظر نامہ سے ملتا جلتا ہے جس کے تین سر ہوں۔ایک سر، دو ہاتھ اور دو ٹانگیں وغیرہ، ایک دھڑ کی طرف منسوب ہو سکتے ہیں لیکن ایک دھڑ پر تین سروں کا موجود ہونا مسئلہ پیدا کر دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان تین سروں کی اُفتاد طبع اور فطرت طبیعی کا پتہ لگایا جائے۔اگر قدرت کے یہ عجوبے اتنا لمبا عرصہ زندہ رہتے ہیں کہ خود بول سکیں اور جو ان پر بیت رہی ہے اس کا اظہار کر سکیں تب ہی ہم ان سے دریافت کر سکتے ہیں کہ ان کے سروں کے اندر فکری لحاظ سے کیا کچھ ہو رہا ہے اور ہر سر میں الگ الگ کیا کیا افکار وخیالات جنم لے کر اپنے ایک ہی یا اکیلے جسم پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔یہ جانے اور معلوم کیے بغیر یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ وہ تینوں مل کر ایک ہی شخص ہیں اور یہ کہ وہ ایک شخص تین دماغوں میں شریک ہے۔اسی طرح یہ کہنا بھی ممکن نہیں ہے کہ تین شخص ایک ہی جسم میں شریک ہیں۔یہ بہت عجیب بات ہے کہ مسیحی اعتقاد کے اس اہم پہلو ( تثلیث اور اس کے اقانیم کے باہمی ربط و ضبط) کی صحائف میں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔جہاں تک مسیح اور روح القدس کے ذکر یا حوالہ کا تعلق ہے ان کو ہر جگہ دو ایسی مختلف شخصیتوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے جن کا نہ خیالات کا طریق ایک تھا اور نہ ہی ان کے جذبات و احساسات بالکل یکساں نوعیت کے تھے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو روح القدس کو مسیح سے علیحدہ وجود کے طور پر تصور میں لانا ممکن ہی نہ ہوتا۔خاص طور پر اس عرصہ میں تو جبکہ مسیح انسانی جسم میں محید و دو مقید تھا ان کے علیحدہ وجو دوں کو تصور میں لانا بدرجہ اولیٰ ناممکن ہو تا۔مسیح کے ایک انسان کے طور پر عبسم اختیار کرنے کے دوران تثلیث کے دوسرے عناصر ترکیبی کے ساتھ رابطہ سے متعلق جن سوالات کا یقینی طور پر پیدا ہونالازمی ہے وہ یہ ہیں: 1۔کیا بقیہ دو عناصر ترکیبی یعنی ”باپ خدا " اور روح القدس کسی لحاظ سے یسوع مسیح کے جسم اور جسم سے متعلق تجربات میں باہم مل کر اکٹھے شریک تھے ؟ 2۔کیا اس انسانی جسم میں مسیح اکیلا ہی سمایا ہوا تھا اور جسم سے تعلق رکھنے والے تجربات میں اس نے تثلیث کے بقیہ دو عناصر ترکیبی کو شریک نہ کیا تھا؟ اول الذکر سوال کے شاخسانوں پر ہم پہلے ہی روشنی ڈال چکے ہیں۔البتہ مؤخر الذکر سوال کے سلسلہ میں ایک مزید پیچیدگی پیدا ہوتی ہے اور اس نئی پیچیدگی کا تعلق ہے اس امر سے کہ اس دوران تثلیث کے باقی دو اجزائے ترکیبی سے مسیح کے رشتہ کی نوعیت کیا تھی اور ان کے درمیان کوئی رابطہ تھا یا نہیں۔کیا اس عرصہ کے دوران مسیح نے از خود بالکل ایک علیحدہ شخصیت اختیار کر لی تھی یا وہ اس دوران بھی دوسرے