مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 99
99 زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ خدا کے مقدس نبی کے خلاف جگر پاش زبان درازی جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جاچکا ہے صحیفوں میں یہ پیش گوئی موجود تھی کہ اگر کوئی جھوٹا مدعی نبوت خدا کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے گا جو اس نے کہی نہ ہو گی تو اسے درخت کے ساتھ لٹکایا جائے گا۔اس لحاظ سے مسیح کا صلیب پر مرنا میسحیت کی موت کے مترادف ٹھہر تا تھا۔یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کا مستند مذہبی لٹریچر مسیح کی صلیبی موت کے متعلق انتہائی دل آزار طعن و تشنیع اور خرافات سے بھرا پڑا ہے۔مسیح کے ہم عصر مخالف بالخصوص بائبل کے مذکور حوالہ کی رو سے ڈنکے کی چوٹ کہا کرتے تھے کہ وہ بلاشبہ جھوٹا ثابت ہو چکا ہے۔اس کے جھوٹا ہونے میں شک وشبہ کے کسی شائبہ کی بھی گنجائش نہیں۔ان کے دلوں میں مسیح کے لئے حبہ برابر بھی احترام باقی نہیں رہا تھا۔وہ اس کے خلاف بہت ہی گندی اور اہانت آمیز زبان استعمال کرتے تھے۔ہر شخص جو مسیح سے محبت رکھتا تھا ایسی گندہ دہنی برداشت نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہم برداشت کر سکتے ہیں کیونکہ ہم اسے خدا کا ایک سچا اور برگزیدہ رسول مانتے ہیں اور اس کے اس مرتبہ کی وجہ سے اس سے محبت رکھتے ہیں۔ہر کوئی یہودیوں کے طعن و تشنیع اور گندہ دہنی پر ابتدائی مسیحیوں کی کربناک اذیت اور دلی دکھ درد کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے۔وہ کیوں اذیت محسوس نہ کرتے جبکہ وہ اسے خدا کا سچا پاک و مقدس اور پار سارسول سمجھتے تھے اور اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ وہ مسیحا کے اعلیٰ منصب پر فائز اور ان کا نجات دہندہ ہے۔وہ ایسی گندی زبان کے خلاف اپنا دفاع کیسے کریں گے جبکہ اسے اس گندی اور ناپاک زبان کے بالمقابل پڑھا جائے جو ہمیں آج کے زمانہ میں سلمان رشدی کی بدنام زمانہ کتاب The 'Satanic Verses میں ملتی ہے اور ہمارے دلوں کو بری طرح زخمی کرتی ہے۔دونوں کی طرف سے شرافت اور شائستگی کا ایسا مکمل فقدان انسانیت کی پستی اور گراوٹ کی اتھاہ گہرائیوں میں اترنے اور اسفل السافلین میں جا داخل ہونے پر دلالت کرتا ہے۔آگے ہم قدیمی یہودی لٹریچر سے جو اقتباسات درج کریں گے ان سے قارئین کتاب کچھ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ جب پاک و مطہر اور مقدس ہستیوں کے ہلکائے ہوئے جنونی مخالف جھپٹ جھپٹ کر انہیں انتہائی گستاخانہ اخلاق سوز حملوں کا نشانہ بناتے ہیں تو شرافت و نجابت کی انسانی اقدار کا جنازہ نکلنے سے معتقدین کے دلوں پر کیا بیتی ہے۔طالمود یہودیوں کی وہ کتاب ہے جس میں ان کے عقائد درج ہیں اور ان کے مذہبی علوم کو جس میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اس میں یہ امر ذہن نشین کرایا گیا ہے کہ نعوذ باللہ نہ صرف یہ کہ مسیح