مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 98 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 98

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 98 98 اٹھنے کا۔بلکہ جیسا کہ عقل عمومی کا تقاضا ہے یہ محض موت سے بچ نکلنے کا واقعہ تھا۔مسیح کے مردہ جسم کے زندہ ہو جانے کو مسیحیت کی بقا کے لئے بے انتہا اہم قرار دیا جاتا ہے۔اس مسئلہ کی اس قدر اہمیت کے پیش نظر ہر کسی کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس اہمیت کے پس پردہ کار فرما اصل وجوہات کا پتہ لگائے۔ان وجوہات کا پتہ لگانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ یہ سارے کا سارا واقعہ اپنے جملہ مشمولات کے ساتھ منطق سے یکسر عاری ہے۔آخر خدا کا ایک نام نہاد بیٹا ایک دفعہ انسانی جسم کے پنجرہ سے آزاد ہونے کے بعد اس قید خانہ میں دوبارہ جا داخل ہونے کو کیوں ترجیح دے؟ اس امر کو کہ وہ واقعی مر گیا تھا اور یہ کہ اس کا مردہ جسم دوبارہ زندگی سے ہمکنار ہو گیا تھا شبہ سے مبرا کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے ؟ اس پہلو پر ہم پہلے بھی کافی حد تک غور کر چکے ہیں۔انہیں نکات کو دہرانا اور ان پر زور دینا فی الوقت میرے مد نظر نہیں ہے۔البتہ میں اس تعلق میں کتاب کے قاری کی توجہ ایک بہت اہم سوال کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔وہ سوال یہ ہے کہ ایسے نامعقول خیال نے مسیحی دینیات میں جڑ کیوں پکڑی؟ اور مسیح کے بعد چند صدیوں کے اندر اندر اس نامعقول خیال نے عیسائی اعتقادات کی عمارت کے ستونوں میں سے ایک ایسے مرکزی ستون کی شکل کیوں اختیار کی کہ اس کے قائم رہے بغیر عیسائی دینیات کی پوری کی پوری عمارت دھڑام سے زمین پر آرہتی ہے ؟ ہمیں اس کے لئے ابتدائی زمانہ کے مسیحیوں کے ذہنوں میں جھانک کر اور ان میں اتر کر اصل حقیقت کا پتہ لگانا ہو گا۔وہ دراصل اس وقت کے معروضی حالات کی وجہ سے عجب گومگو کی حالت میں تھے اور جو الجھن انہیں در پیش تھی اس کا انہیں کوئی حل نظر نہ آرہا تھا۔وہ یہ کہہ نہیں سکتے تھے کہ مسیح کو صلیب پر سے زندہ اتار لیا گیا تھاور نہ پکڑ دھکڑ کا سلسلہ پھر شروع ہو جاتا۔انہوں نے حالات کو موڑنا اور انہیں ایک اور ہی سانچہ میں ڈھالنا شروع کیا۔اس کوشش میں رفتہ رفتہ مسیحیت کو ایک ایسی شکل دے دی گئی جو حقیقت سے بہت مختلف تھی۔ان کی اصل الجھن اور مشکل کو جان لینے سے مسیحیت کے بننے اور بگڑنے کے عمل کو زیادہ گہرائی میں جاکر سمجھنا ہمارے لئے آسان ہو جائے گا۔اس ضمن میں وہ ٹھوس حقیقت جس پر توجہ کو مرکوز کرنا ضروری ہے محض یہ ہے کہ اگر مسیح (علیہ السلام) فی الواقعہ صلیب پر مر گئے تھے تو یہودیوں کی نگاہ میں واضح طور پر جھوٹے اور فریبی قرار پائیں گے۔یہ تھی وہ الجھن جس میں سے نکلنے کی کوشش میں وہ سر گرداں تھے۔