مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 79
79 صلیب اور اس سے متعلقہ امور پر حیرت جو ہمارے مشاہدہ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب مسیح کی موت کی خبر پیلا طوس کو پہنچائی گئی تو اس نے بھی مسیح کی طرح ہی تعجب کا اظہار کیا وہ بہت حیران ہو کر بولا کہ ہائیں وہ اتنی جلدی مر گیا ( مرقس باب 15 آیت 44)۔یہودیہ میں اپنی گورنری کے عرصہ کے دوران اسے مجرموں کو صلیب دیئے جانے اور صلیب پر لٹکی ہوئی حالت میں ان کے مرنے کا کافی لمبا تجربہ ہو گا۔وہ حیرت کا اظہار نہیں کر سکتا تھا جب تک کہ اسے یقین نہ ہو تا کہ چند گھنٹوں کے اندر اند ہی ایک مصلوب پر موت کا وار د ہونا ایک غیر معمولی بات ہے۔اس کے باوجود پر اسرار حالات کے تحت ہی اسے نعش یوسف آف آرمتیاہ کے سپر د کرنے کی درخواست منظور کرنا پڑی۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ شروع ہی سے اس پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ وہ مسیح کو سزا سے بچانے کی سازش میں شریک تھا۔الزام اس پر یہ لگایا گیا تھا کہ اپنی بیوی کے اثر میں آکر اس نے اس بات کا بطور خاص خیال رکھا کہ مسیح کو صلیب پر ایسے وقت میں لٹکایا جائے جو سبت کا دن شروع ہونے کے بہت قریب ہو۔دوسرے یہ کہ اس نے مسیح کی موت بہت جلد واقع ہونے کی مشکوک اطلاعات ملنے کے باوجود اس کی نعش ورثا کے حوالہ کرنے کی فوراً منظوری دے دی۔پیلاطوس کے اس فیصلہ پر یہودیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔انہوں نے اس کی خدمت میں ایک خدمت گزاری جس میں مسیح کے فی الواقعہ وفات پا جانے کے متعلق شکوک و شبہات کا ذکر کیا گیا تھا۔متی باب 27 آیت 62 تا 66) بائبل کے بیان سے ہمیں یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ جب مسیح کا جسم صلیب پر سے اتارا گیا تو عام دستور کے خلاف اس کی ٹانگیں نہیں توڑی گئیں بر خلاف اس کے جن دو چوروں کو مسیح کے ساتھ صلیب دی گئی تھی ان کی ٹانگیں توڑ کر باقاعدہ تسلی کی گئی کہ فی الحقیقت ان کی موت واقع ہو گئی تھی اور ان کے زندہ رہنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا تھا ( یوحنا باب 19 آیت 31 تا 32) مزید بر آں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ بائبل کی رو سے جب مسیح کے پہلو میں پھلا گھونپا گیا تو یکدم ہی خون اور پانی تیزی سے بہہ نکلا۔چنانچہ خود انجیل میں لکھا ہے: لیکن جب انہوں نے یسوع کے پاس آکر دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو اس کی ٹانگیں نہ توڑیں مگر ان میں سے ایک سپاہی نے بھالے سے اس کی پہلی چھیدی اور فی الفور اس سے خون اور پانی بہہ نکلا“ (یو حناباب 19 آیات 34،33) اگر مسیح واقعی مر چکا تھا اور اس کے دل کی دھڑکن مکمل طور پر بند ہوگئی تھی تو خون کی ایسی روانی کہ