مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 76

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 76 واضح ہے کہ طاقتور یہودی جمعیت نے مسیح کے خلاف گندی ذہنیت اور بری نیت کا آئینہ دار در پردہ ایک محاذ قائم کر رکھا تھا اور وہ اسے بہر حالت سزا دلوانے پر تلے ہوئے تھے۔اندریں صورت اگر پیلاطوس کوئی ایسا فیصلہ دیتا جو حق و انصاف کے عین مطابق ہونے کے باوجود یہودیوں کی مرضی اور خواہش کے خلاف ہو تاتو امن و امان کے نقطۂ نگاہ سے بہت سنگین صورت پیدا ہو سکتی تھی۔یہ تھی مجبوری جس نے ایک طرح سے پیلاطوس کے ہاتھ باندھ کر رکھ دیئے۔چنانچہ اس کے ہاتھ دھونے سے اس کی یہ مجبوری اظہر من الشمس ہوئے بغیر نہیں رہتی۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ پیلا طوس نے مسیح کو بچانے کی ایک کوشش اور بھی کی۔اس نے یہودیوں کے بھرے ہوئے غضب ناک مجمع کے سامنے ایک متبادل تجویز رکھی اور وہ یہ تھی کہ وہ اپنی عید فسخ کی وجہ سے یا تو بد نام زمانہ مجرم بر ابانامی کی جان بخشی کرالیں یا مسیح کو موت کے منہ میں جانے سے بچالیں ( متی باب 27 آیت 16 تا17)۔یہ بات ایک کھلا اشارہ مہیا کرتی ہے جس سے یہ امر واضح ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ اس وقت پیلاطوس ایک ذہنی خلجان میں مبتلا تھا۔وہ واضح طور پر مسیح کو سزا دینے کے خلاف تھی اس کی نفسیاتی حالت جس کے تحت اس نے صلیب دیئے جانے کے لئے ایک تو جمعہ کا دن مقرر تھا۔۔کیا اور لکھا کہ اسے اس روز سہ پہر کے وقت صلیب پر لٹکایا جائے۔فی الحقیقت جو کچھ وقوع میں آیا اس سے یہ یقین کرنے کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ تاریخ اور وقت کی تعین اس نے ایک خاص مقصد کے پیش نظر کی کیونکہ سبت کی رات جمعہ کی سہ پہر سے زیادہ دور نہیں تھی اور قانون کے محافظ کی حیثیت سے وہ اس بات سے اچھی طرح باخبر تھا کہ سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی سبت کا دن شروع ہو جاتا ہے اور سبت کا دن شروع ہونے سے پہلے پہلے مسیح کے جسم کو صلیب سے اتار نالازمی ہو گا اور من وعن ہوا بھی یہی۔ایک سزا یافتہ مجرم کو عذاب دے دے کر مارنے کے لیے بالعموم تین دن رات کا عرصہ درکار ہو تا تھا۔یہ طریق اختیار کرنے سے ( یعنی جمعہ کا دن اور سہ پہر کا وقت مقرر کرنے کی وجہ سے صلیب پر لٹکے رہنے کے عرصہ کو مسیح کے لئے زیادہ سے زیادہ چند گھنٹوں تک محدود کر دیا گیا۔ایک انسان حیرت میں پڑے بغیر نہیں رہتا کہ مسیح جیسے صحت مند انسان کی جان لینے کے لیے جسے سخت اخلاقی حدود قیود کی پابندی اور سادہ طرز معاشرت نے جسمانی طور پر بہت مضبوط بنادیا تھا چند گھنٹے کب کافی ہو سکتے تھے۔مسیح کے ساتھ یہ جو کچھ ہوا کیا یہ یونس نبی کے تمثیل نما عقدہ کو حل کرنے کے لئے ایک کنجی یا مفتاح کا کام نہیں دے سکتا؟ اس زمانہ میں موت کی سزا پانے والے کے لئے عام دستور یہ تھا کہ وہ تین دن رات مسلسل صلیب پر لٹکار ہے۔اس بات سے ایک خیال انسان کے ذہن میں ابھر کر گھنٹی کی آواز کی طرح گونج