مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 69
باب چهارم صلیب اور اس سے متعلقہ امور مسیح اور اسے صلیب دیئے جانے سے متعلق حقائق پر اپنی توجہ مرکوز کرنے سے قبل غالباً یہ بات بے محل نہ ہو گی کہ اس امر کا ذکر کر دیا جائے کہ مسیح کو صلیب دیئے جانے کے وقت اور اس کے بعد جو واقعات رونما ہوئے احمدی مسلمانوں کے نزدیک ان کی اصل حقیقت کیا ہے اور وہ ان سب واقعات کو کس نقطہ نظر سے دیکھتے اور جانچتے ہیں۔یہاں اس موضوع پر اختصار سے روشنی ڈالی جائے گی۔اس پر مفصل بحث کا مرحلہ بعد میں آئے گا۔ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مسیح کو صلیب دینے کا مقصد کسی بھی قتل عمد کی طرح اسے جان بوجھ کر جان سے مار دینے کی ایک کوشش کے سوا اور کچھ نہ تھا۔قتل عمد میں خود صلیب کی حیثیت ایک ہتھیار یا آلہ قتل ہی کی تھی۔لیکن فی الاصل صلیب دینے اور اسے جان سے مار دینے کی یہ کوشش اس پر موت وارد کرنے میں ناکام رہی۔بالفاظ دیگر کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مسیح کے مخالف و معاند اسے فی الحقیقت صلیب دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ہمارا یہ کہنا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ قتل کی کسی اور ناکام کوشش کے متعلق بالعموم کہا جاتا ہے۔مراد یہ کہ اگر کسی کو مارنے کی کوشش کی جائے اور وہ کوشش ناکام رہے تو محض کوشش سے یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا کہ جسے نشانہ بنایا گیا تھا اسے محض نشانہ بنانے سے ہی موت کے گھاٹ بھی اتار دیا گیا۔مثال کے طور پر اگر کسی کو تلوار کے ذریعہ قتل کرنے کی کوشش کی جائے اور وہ کوشش ناکام رہے تو کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جسے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی اس کا کام تمام ہو گیا۔سواحمدی مسلمانوں کی حیثیت میں ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح کو جان سے مار دینے کی کوشش ضرور کی گئی تھی لیکن صلیب کی حیثیت اس ارادہ قتل کو بروئے کار لانے والے ایک ہتھیار یا ایک ذریعہ سے زیادہ نہ تھی۔صلیب پر چند گھنٹے کی شاید اذیت برداشت کرنے کے بعد قبل اس کے کہ اس کی موت واقع ہوئی اسے گہری بیہوشی کی حالت میں صلیب پر سے اتار لیا گیا۔صلیب پر سے اتارے جانے کے بعد رفتہ رفتہ وہ ہوش میں آگیا۔اب ظاہر ہے کہ کسی ایسے شخص کو جسے موت کی سزا کا حق دار قرار دیا گیا ہو اور وہ کسی نہ کسی طرح موت کی سزا