مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 67

67 روح اللہ س کا عمل و کردار کے رنگ میں بحث کی جائے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ واضح اور کھلے تضاد کے باوجود اس بات پر مصر رہتے ہیں کہ مسیح خدا ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بھی تھا۔انہیں اس میں سرے سے کوئی تضاد ہی نظر نہیں آتا۔اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ اس میں بھی کوئی تناقض محسوس نہیں کرتے کہ ایک شخص بیک وقت تین اشخاص بھی ہو سکتا ہے اور پھر طرفہ تماشا یہ کہ ان تین اشخاص کے کرداروں میں حبہ برابر بھی فرق واقع نہیں ہو تا۔وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ایک خدا پر ایمان لانا اور ساتھ کے ساتھ سہ شاخہ الوہیت (یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس کی الوہیت) پر ایمان لانا کوئی ایسا اچنبہ یا عجوبہ نہیں ہے جو فی ذاتہ مہمل و متناقض ہو بلکہ اس کی حیثیت محض ایک راز یا غیب کی ہے۔یہ کہہ کر وہ سمجھتے ہیں کہ اس بارہ میں کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں۔وہ آنکھیں بند کر کے نچنت ہو جاتے ہیں اسی لئے انہیں اپنے اس دعوی میں کوئی تناقض نظر نہیں آتا۔ان کے نزدیک ”باپ خدا کی ذات، اس کے اپنے بیٹے مسیح کی ذات سے اور روح القدس کی ذات سے واضح طور پر مختلف بھی ہے اور تینوں کی الوہیت یعنی تثلیث پر ایمان لانے کے باوجود بھی اس کی وحدانیت قائم و برقرار رہتی ہے۔ان کی اس نرالی منطق پر حیرت زدہ ہو کر جب ہم انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو اور بھی زیادہ حیرت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ہم انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم ایک ہی شخصیت کے مختلف پہلوؤں ، مزاجوں اور صفات کی نہیں بلکہ تین علیحدہ علیحدہ شخصیتوں کی اور اس امر متناقض کی بات کر رہے ہیں کہ خدا تین میں ایک اور ایک میں تین ہے۔پھر ہم انہیں بتاتے ہیں کہ ایسے امر متناقض پر ایمان لانا ہر گز کسی را ز یا غیب پر ایمان لانے کے مترادف نہیں ہے بلکہ یہ تو کھلے کھلے تضاد کو آنکھیں بند کر کے درست تسلیم کرنے والی بات ہے۔اس پر ان کی طرف سے ایک عجیب رد عمل ظاہر ہوتا ہے۔وہ اظہار ہمدردی کے طور پر اپنے سر کو ایک خاص انداز میں جنبش دیتے ہیں اور پھر بڑے نرم لہجے میں ہم سے کہتے ہیں کہ تضادات پر بحث کرنی ہے تو کسی اور موضوع پر بات کریں۔مراد اس سے ان کی یہ ہوتی ہے کہ غیب“ کے موضوع پر بحث کرتے ہوئے تضادات کو درمیان میں نہ لائیں۔وہ ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پہلے ہم نا قابل یقین پر آنکھ بند کر کے ایمان لائیں اور پھر ایمان لانے کے بعد اس راہ میں آگے قدم بڑھائیں تاکہ ان تضادات پر (جنہیں وہ قدرت کے بھید قرار دینے کے خواہاں ہیں) ایمان کی از خود نشو و نما ہو سکے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ پہلے سمجھے بغیر ایمان لائے اور پھر ایمان میں ترقی کرنے کی کوشش کرے۔سو گویا اگر وہ سمجھے بغیر ایمان نہیں لاتا تو وہ مسیحی عقائد کے