مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 60

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 60 ہوں۔اور ان کے مردوں نے مشقت جھیلے بغیر ہی روزی کمائی ہو۔اس بارہ میں وہ غیر عیسائی دنیا کے بالمقابل اپنے ہاں کسی تبدیلی کا رونما ہونا ثابت نہیں کر سکتے۔گناہ کے طبعی میلان کے بارہ میں بھی عیسائی دنیا میں تبدیلی کے کوئی آثار کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔مسیح پر ایمان رکھنے والوں اور ایمان نہ رکھنے والوں کا باہم موازنہ کرنے سے اس امر کی کوئی شہادت سامنے نہیں آتی کہ مسیح پر ایمان رکھنے والوں میں ارتکاب گناہ کا میلان کلی طور پر نا پید ہو گیا ہو۔مزید بر آں یہ امر بھی حیران کن ہے کہ ”خدا کے بیٹے“ پر ایمان کے بالمقابل خدا پر ایمان کو کمتر درجہ کیوں دیا جاتا ہے۔خاص طور پر اس زمانہ کے متعلق کیا کہا جائے گا جبکہ یہ گہر ا قدیمی راز کہ خدا کا کوئی بیٹا بھی تھا ابھی نوع انسان پر منکشف نہ ہوا تھا۔یقیناً اس وقت بھی ایسے لوگ موجود تھے جو خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت پر ایمان رکھتے تھے۔اسی طرح خود مسیح کے اپنے زمانہ میں اور اس کے بعد کے زمانوں میں بھی ہر خطہ ارض میں اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں میں بے شمار لوگ ایسے پیدا ہوئے جو خدا کی ہستی پر اور اس کے احد ہونے پر ایمان رکھتے تھے۔اس زمانہ میں ایمان باللہ گناہ اور اس کی سزا پر کیوں اثر انداز نہ ہوا؟ یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ”باپ خدا نے گناہگاروں کے لئے اس عظیم دکھ کا مظاہرہ کیوں نہ کیا جس کا مظاہرہ اس کے ”بزرگ تر“ بیٹے کی طرف سے دیکھنے میں آیا؟ یقینا ظاہر یہی ہوتا ہے کہ ( نعوذ باللہ ) کم مہذب باپ کے مقابلہ میں بیٹا بلند تر اخلاقی اقدار کا حامل تھا۔اگر کوئی یہ پوچھتا ہے تو وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہے کہ کیا ( نعوذ باللہ الوہیت ابھی ارتقائی مراحل میں سے گزر رہی ہے اور اس کے پایۂ تکمیل کو پہنچنے کا عمل ہنوز جاری ہے ؟