مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 59

59 گناہ اور کفارہ اس کے اپنے بیٹے اور بیٹیاں نہیں تھے تو اس نے انہیں ہمیشہ ہمیش جاری رہنے والی سزا دینے کا فیصلہ کیا لیکن جب وہ انہی ان گنت گناہوں کی سزا خود اپنے بیٹے کو دینے لگا کیونکہ ان تمام گناہوں کا بار اس نے رضا کارانہ طور پر خود اپنے کندھوں پر لے لیا تھا کبھی ختم نہ ہونے والی دائمی سزا میں یکدم تخفیف کر دی گئی اور تخفیف بھی اتنی زیادہ کی گئی کہ دائمی سزا گھٹ گھٹا کر صرف تین دن اور تین رات کے انتہائی قلیل عرصہ تک محدود ہو کر رہ گئی ؟ گویا کہ دونوں سزاؤں میں کوئی نسبت ہی باقی نہ رہی۔اگر انصاف کے نام پر سے کچھ کرنا تھا تو پھر ایسے انصاف کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔بنی نوع انسان کو خدا نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے۔اگر وہ بھی اسی طرح کا انصاف کرنے لگیں جس طرح کا انصاف کرنا انہوں نے خود اسی سے سیکھا ہے تو عدل گستری میں وہ ان کے طرز عمل اور کردار پر کیسے ناپسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار کرے گا۔اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ اپنے بچوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں اور پیمانے اور دوسروں کے ساتھ پیش آنے میں پیمانے بالکل ہی اور۔اگر خدا کے بندے بھی عدل گستری میں اس کے اپنے اس بے انداز تفاوت کی نقل کریں تو کیا وہ ان کی اس ہو بہو نقل کو خوشی اور مسرت کے عالم میں جھوم جھوم کر دیکھے گا یا غصہ اور دہشت زدگی کے عالم میں اس کا مشاہدہ کرے گا؟ لاریب بہت مشکل ہے اس سوال کا جواب دینا! کفارہ نے تبدیلی کیا پیدا کی؟ جہاں تک اس مسیحی عقیدہ کا تعلق ہے کہ مسیح کا صلیب پانا گناہ کی سزا پر اثر انداز ہوا ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ یسوع مسیح پر ایمان لانے کے نتیجہ میں گناہ کی سزا میں کسی لحاظ سے بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ہماری مراد اس سزا سے ہے جو خدا نے ابتدائی گناہ کی پاداش کے طور پر آدم و حوا اور ان کی تمام آئندہ نسلوں کے لئے مقرر کی تھی۔تمام انسانی مائیں آج تک درد زہ کی تکلیف اٹھا کر بچے جنتی چلی آرہی ہیں اور اسی طرح آج بھی مرد محنت و مشقت کے ذریعہ اپنا پسینہ بہا کر روزی کما رہا ہے۔آئیے ہم ایک اور زاویہ نگاہ سے اس معاملہ کا جائزہ لیں۔وہ زاویہ نگاہ یہ ہے کہ اس بارہ میں عیسائی دنیا کا غیر عیسائی دنیا سے موازنہ کر کے دیکھیں کہ زمانہ مسیح کے بعد سے عیسائی دنیا میں کیا امتیاز رونما ہوا ہے۔مسیح پر ایمان لانے والا کوئی شخص بھی تاریخ کے کسی بھی دور میں کسی قابل ذکر تبدیلی کی نشاندہی نہیں کر سکتا۔کیا کسی دور میں بھی ایسا ہوا ہے کہ ان کی (یعنی عیسائیوں کی ) عورتوں نے دردِ زہ کے بغیر ہی بچے جنے