مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 58

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 58 سوہان روح کی شکل اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔ایسا شخص دوسروں کی خاطر خود دکھ اٹھانے کے وصف سے متصف ہو تا ہے۔اس کی یہ حالت بسا اوقات بڑھتے بڑھتے جہنم کی اذیت ناک کیفیت سے مشابہت اختیار کر لیتی ہے۔ہر کوئی جانتا ہے کہ مائیں اپنے بیمار اور معذور بچوں کے لئے کچھ کم دکھ نہیں اٹھا تیں۔انسانی تجربہ اس امر پر گواہ ہے کہ ایک دائمی طور پر معذور اور اپاہج بچے کا دکھ اس کی ماں کے لئے ایک دہکتی ہوئی اصلی جہنم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔بنابریں ہم دوسروں کی خاطر دکھ جھیلنے کے اس اعلیٰ روحانی وصف کو مسیح کے تعلق میں کیوں تسلیم نہیں کر سکتے ؟ آخر ہم کیوں نہ تسلیم کریں کہ یہ ارفع و اعلیٰ روحانی وصف مسیح کو بدرجہ اولی حاصل تھا اور وہ یقیناً اس سے پوری طرف متصف تھا لیکن مسیح کے ضمن میں سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس کے اس ارفع وصف کی کار فرمائی صرف تین دن رات تک ہی کیوں محدود رہی؟ اس وصف نے مسیح کے اپنے پورے زمینی عرصہ حیات میں بلکہ اس سے بھی پہلے اور بعد کے زمانوں میں بھی اپنی تاثیر اور اثر انگیزی کا کیوں ثبوت نہ دیا۔شرف اور بزرگی رکھنے والے روحانی وجود دوسروں کی خاطر صرف چند گھنٹوں یا دنوں پر مشتمل محدود وقت کے لیے ہی برائے نام دکھ نہیں اٹھایا کرتے۔ان کے دکھ اور کرب مسلسل کی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ ان کے دل تسلی نہیں پکڑتے اور انہیں چین نہیں آتا جب تک وہ دوسروں کے دکھ کو یکسر نابود ہوتے اور اسے سکھ میں تبدیل ہوتے نہ دیکھ لیں۔جس قسم اور نوعیت کی دوزخ سر دست ہمارے زیر غور ہے اسے اپنے پر وارد کرنا صرف معصوم صفت اور خدا رسیدہ لوگوں کا ہی خصوصی استحقاق نہیں ہے۔اس میں شک نہیں کہ یہ اعلیٰ وصف ہے لیکن یہ ہے ایک ایسا وصف جس سے متصف ہونے سے جنگل کے درندے بھی بکلی محروم نہیں ہیں۔وہ بھی ایک حد تک اس سے متصف ہوتے ہیں اسی لیے وہ بھی اپنے قریبی ساتھیوں کا دکھ درد محسوس کرتے ہیں۔میں اظہارِ رائے کے طور پر چند مزید فقروں پر اکتفا کرتے ہوئے اس بحث کو سمیٹنا اور ختم کرنا چاہتا ہوں لیکن ایک اور اہم موضوع بھی میرے پیش نظر ہے اس پر بھی اختصار سے روشنی ڈالنا ضروری ہے۔وہ موضوع یہ ہے ے کہ خدا نے مسیح کے لئے جو سزا مقرر کی وہ صرف تین دن اور تین رات جاری رہی جبکہ ان گناہگاروں نے جن کے گناہوں کی پاداش میں اسے سزادی گئی اتنے لمبے عرصہ اور زمانہ دراز تک ایسے ایسے بھیانک گناہ کئے تھے کہ خود بائبل کی رو سے وہ مستحق تھے دوزخ کے دائگی عذاب کے۔قابل غور امر یہ ہے کہ یہ کس قماش کا عادل خدا تھا کہ جب وہ ان لوگوں کو سزا دینے لگا جنہیں اس نے خود پیدا تو کیا تھا لیکن وہ