مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 52

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 52 ہی جہنم رسید کر کے آگ میں جھونک دیا گیا ہو کیونکہ یہ بات خود اپنی ذات میں ایک بہت بڑے تضاد کی حامل ہے۔ہم ذرا مسیحیت کے اصل بنیادی تصور کی طرف لوٹ کر اس معاملہ کا جائزہ لیتے ہیں۔اس تصور کی روسے کہا یہ جاتا ہے کہ ”خدا“ اور ”بیٹا ہیں تو دوا قنوم لیکن ان کی فطرت اور مادہ ایک ہی ہے۔یہ ناممکن ہے کہ دونوں میں سے ایک تو ایک تجربہ سے گزرے اور دوسرا اس تجربہ میں سرے سے شریک ہی نہ ہو۔ہم یہ کیسے باور کر سکتے ہیں کہ ”خدا“ کے ایک رخ یا ہیئت “ یعنی اس کے ” بیٹے کو تو عذاب دیا جارہا تھا جبکہ وہ خود اس طرح اس عذاب سے محفوظ تھا کہ گویا اسے خراش تک نہ آئی۔اگر یہ کہا جائے کہ ” بیٹے “ کے ساتھ خدا نے دکھ نہیں جھیلا تو یہ خدا کی وحدانیت پر ضرب لگانے اور اسے پاش پاش کرنے کے مترادف ہو گا۔اس طرح تو ایک شخصیت میں تین شخصیتوں کا ادغام اور بھی ناقابل فہم بن کر رہ جاتا ہے کیونکہ تثلیث کے ہر اقنوم کا تجربہ ایک دوسرے سے یکسر مختلف نظر آئے گا۔ان میں سے ایک ”خدا“ تو بھڑکتی ہوئی آگ میں جل رہا ہو گا جبکہ بیک وقت دوسرا ”خدا“ اس سے مکمل طور پر اس طرح الگ تھلک ہو گا کہ آگ نے اسے چھوا بھی نہ ہو گا۔اس زمانہ میں عیسائیوں کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یا تو وہ خدا کی عجیب و غریب اپنی خود ساختہ وحدانیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور زمانہ قبل از مسیح کے اہل روما اور اہل یونان کی طرح تین مختلف خداؤں کا علیحدہ علیحدہ وجود تسلیم کر لیں یا پھر ضمیر کی آواز پر پورے اترتے ہوئے اس بات پر ایمان لے آئیں کہ خدا واحد ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں حتی کہ یہ بھی ممکن نہیں کہ اس کے کوئی سے بھی دور یا ہیئتیں ہوں جو ایک دوسرے سے متضاد ہوں۔سوچنے والی بات ہے کہ جب ایک بچہ تکلیف میں ہوتا ہے تو ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کی ماں کو بھی ساتھ ہی تکلیف محسوس نہ ہو اور وہ ہر طرح سے بے حس و پر سکون رہے۔لازماً وہ بچہ ہی کی طرح خود بھی تکلیف محسوس ہونے والی تکلیف بچہ کی تکلیف سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔جب ”باپ خدا نے اپنے ” بیٹے کو تین دن تک اذیت سہنے اور دکھ جھیلنے کے لیے جہنم رسید کیا تھا تو ”باپ “ ہونے کی حیثیت میں خود اس پر کیا بیت رہی تھی؟ اور بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑے ہوئے ”فرزند خدا“ پر کیا گزر رہی تھی؟ کیا خدا دو علیحدہ علیحدہ شکلیں اور جداگانہ مادے رکھنے والی دو شخصیتوں میں منقسم ہو گیا تھا؟ ”خدا“ کی ایک ہیئت تو دوزخ کی آگ میں جل بھن رہی تھی اور دوسری ہلیت دوزخ سے باہر ہونے کے باعث ہر قسم کی تکلیف اور اذیت سے یکسر مبرا تھی؟ اگر یہ سمجھا جائے کہ ”باپ خدا “ بھی ساتھ ہی دکھ اٹھا رہا تھا تو پھر ” بیٹے کو پیدا کرنے اور اسے مصیبت میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی ”خدا خود ہی دکھ اٹھا سکتا اور مصیبت جھیل سکتا تھا؟ ایک سیدھا سادہ براہِ راست سوال ہے اور