مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 51
51 گناہ اور کفارہ یہ بات توجہ کے لائق ہے کہ وہ آخری چیخ یا پکار صرف دکھ اور اذیت میں ہی نہیں ڈوبی ہوئی تھی بلکہ خوف کی حدوں کو چھونے والا استعجاب بھی اس میں رچا ہوا تھا۔اس کے بعض مخلص و وفادار شاگردوں کی تگ و دو اور کاوش سے اسے ہوش میں لایا گیا۔انہوں نے اس کے زخموں پر ایک مرہم لگایا یہ مرہم انہوں نے مسیح کو صلیب پر لٹکائے جانے سے قبل ہی تیار کر لیا تھا۔اس مرہم میں وہ جملہ ادویہ اور دیگر اجزا شامل کیے گئے تھے جو درد کی تکلیف کو کم کرنے اور زخموں کو مندمل کرنے کی خاصیت اور تاثیر کے حامل تھے۔اپنے آپ کو زندہ پا کر اور زخموں کو مندمل ہوتا دیکھ کر مسیح کو کس قدر مسرت انگیز حیرت ہوئی ہو گی اور محبت کرنے والے اپنے صادق الوعد خدا پر اس کا ایمان کس شان سے اور بھی زیادہ پختہ ہو گیا ہو گا۔اس وقت ایسی گہرائی اور گیرائی کی حامل بے انتہا خوشی شاید ہی کسی اور شخص کے حصہ میں آئی ہو۔یہ حقیقت کہ مرہم پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا خود اپنی ذات میں ایک زبر دست ثبوت ہے اس امر کا کہ مسیح کے شاگر دیقینا توقع رکھتے تھے کہ مسیح صلیب سے زندہ حالت میں اتر آئے گا اور اسے طبی امداد بہم پہنچا کر اس کے لئے علاج معالجہ کی سہولتیں مہیا کرنا ہوں گی۔چنانچہ وہ اس متوقع صورت حال کے لئے پوری طرح تیار تھے۔مذکورہ بالا حقائق سے یہ بات آسانی سے واضح ہو جاتی ہے کہ موروثی گناہ اور صلیب کے ذریعہ کفارہ کا تصور بعد میں آنے والے مسیحی عالموں کی قیاس آرائیوں اور خوش فہمیوں کی پیداوار ہے۔عین ممکن ہے کہ یہ تصور زمانہ قبل از مسیح سے تعلق رکھنے والے اسی نوع کے دیو مالائی قصوں سے اخذ کیا گیا ہو۔مسیح کو جو حالات پیش آئے جب انہیں ان دیو مالائی قصوں کی روشنی میں جانچا گیا ہو گا تو ان دونوں میں بہت سی مماثلتیں ڈھونڈ نکالی گئی ہوں گی۔لگتا یہی ہے کہ ایسی ہی ایک دیو مالائی کہانی واقعہ صلیب کے متعلق بھی گھڑ لی گئی اور اسے جزو ایمان بنالیا گیا۔اس عجیب و غریب اور پر اسرار تصور کی وجہ کچھ بھی ہو ایک بات ظاہر و باہر ہے کہ اس امر کا سرے سے کوئی ثبوت موجود نہیں کہ گناہ اور کفارہ کی مسیحی فلاسفی مسیح کے قول یا فعل پر مبنی ہو یا اس نے خود اس کی تعلیم دی ہو۔وہ کوئی ایسی تعلیم نہیں دے سکتا تھا جو نہ صرف انسانی فہم و ادراک سے بالا ہو بلکہ جو اس قدر گنجلک اور الجھی ہوئی ہو کہ اس میں اور انسانی فہم و ادراک میں بعد المشرقین پایا جاتا ہو۔کیا ”باپ خدا“ نے بھی دکھ جھیلا ؟ جہاں تک بیٹے کی فطرت کا تعلق ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ باور نہیں کر سکتے کہ اس اکیلے کو