مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 50
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 50 صلیب پر جان دینے کے لئے اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر پیش نہیں کیا تھا۔جس روز اس کے دشمنوں نے اسے صلیب دے کر جان سے مار دینے کی کوشش کی ہم دیکھتے ہیں وہ طلوع ہونے سے قبل مسیح نے ساری رات اپنے شاگردوں کے ہمراہ دعا کرنے میں بسر کی۔وہ رات بھر دعا کر تا رہا اور اس لئے کرتا رہا کہ اس کڑے وقت میں اس کے اپنے دعوئی مسیحیت کی صداقت کے لوگوں کی نگاہ میں مشتبہ ہونے کا زبر دست خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔وہ اس لیے کہ عہد نامہ قدیم میں یہ بات درج ہے کہ اگر ایک مفتری خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کرے گا جو خدا نے نہیں کہیں اسے درخت سے ٹانگ دیا جائے گا اور وہ ایک لعنتی موت مرے گا۔چنانچہ عہد نامہ قدیم کی پانچویں کتاب میں لکھا ہے: لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اس کو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے“۔(استثناء باب 18، آیت 20) اور اگر کسی نے کوئی ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو اور تو اسے مار کر درخت سے ٹانگ دے تو اس کی لاش رات بھر درخت پر لٹکی نہ رہے بلکہ تو اسی دن اسے دفن کر دینا کیونکہ جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے“ استثناء باب 21 آیات 232 مسیح جانتا تھا کہ اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا ( یعنی اسے صلیب پر لٹکا کر مار دیا گیا) تو یہودی وجد میں آکر خوشی سے جھوم اٹھیں گے اور بڑی مسرت کا اظہار کریں گے۔وہ اسے (یعنی مسیح کو) مفتری قرار دے کر کہیں گے کہ اس کا مفتری ہونا مقدس صحیفوں کی رو سے اس طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ اس میں شبہ کی ذرہ بھر گنجائش نہیں رہی۔یہ تھی وہ بات جس کی وجہ سے مسیح موت کے کڑوے پیالے سے بچنا چاہتا تھا۔وہ بزدلی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس خدشہ کے زیر اثر اس وقت موت سے بچنے کو ضروری سمجھتا تھا کہ اگر موت کا پیالہ نہ ٹلا اور وہ صلیب پر مارا گیا تو اس کی قوم کے لوگ (یہودی) گمراہ ہو جائیں گے اور وہ اس کی صداقت کو شناخت کرنے میں ناکام رہیں گے۔چنانچہ تمام رات وہ اس قدر بے بسی اور بیکسی کی حالت میں دعا کر تا رہا کہ اس کے کرب واضطراب اور اذیت کا حال پڑھ کر دل شق ہو جاتا ہے۔جب زندگی کا یہ اصلی ڈرامہ اپنے انجام اور اختتام کی طرف بڑھتا ہے تو مسیح کی جذباتی الم انگیزی، یاسیت اور ناامیدی کی کیفیت اس کی آخری ایلی ایلی لما شبقتي سے پورے طور پر عیاں ہو جاتی ہے۔پکار