مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 48

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 48 میں دینا ضروری ہے۔کوئی نظریہ اعتقاد کا روپ اس وقت دھارتا ہے کہ جب اسے انسانی فہم و ادراک کی گرفت میں لانے والے الفاظ و کلمات اور مروجہ اصطلاحات کی رُو سے واضح نہ کیا جاسکے۔بائبل کے بیان کی رو سے جب مسیح کی روح قفس عصری سے پرواز کرنے لگی تو مسیح نے ”باپ خدا کو مخاطب کرتے ہوئے بآواز بلند کہا ”تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے “ یہ معمہ حل طلب ہے کس نے کس کو چھوڑا تھا؟ کیا خدا نے خدا کو چھوڑ دیا تھا؟ قربان کیسے کیا گیا؟ اس سارے معاملہ کا ایک اور پہلو جسے ذہن میں لانا اور جس پر توجہ مر تکز رکھنا ضروری ہے یہ ہے کہ مسیح کی دُہری شخصیت میں جو انسان پوشیدہ تھا فی الاصل اسے بھی سزا نہیں دی گئی اور نہ اسے سزا دی جانی چاہیے تھی کیونکہ وہ کسی بھی منطق کی رو سے سزا کا مستحق نہیں بنتا تھا۔بنتا کیسے جبکہ اس نے جملہ بنی نوع انسان کے گناہوں کا بار اٹھانے پر کبھی آمادگی ظاہر نہ کی تھی۔ہماری اس بحث میں معاملہ کے اس پہلو نے ابھر کر ہمیں مخصوص نوعیت کی ایک نئی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے جس پر ہم نے پہلے غور نہیں کیا۔جب انسان اس پر غور کرتا ہے تو یہ سوچ کر حیرت میں پڑے بغیر نہیں رہتا کہ مسیح کی شخصیت میں جو انسان پوشیدہ تھا وہ بھی تو آدم اور حوا کی نسل کے تمام دوسرے انسانوں کی طرح گناہ کے موروثی رجحان و میلان کا حامل تھا۔مسئلہ زیر بحث کے اس پہلو پر غور کرنے والا شخص زیادہ سے زیادہ یہ یقین کرنے کی طرف مائل ہو سکتا ہے کہ ”ابن اللہ “ کے دُہری شخصیت اختیار کرنے کی وجہ سے ایک ہی جسم میں خدا کا بیٹا اور انسان دونوں سمائے ہوئے تھے۔ان دونوں میں سے صرف خدا کا بیٹا ہی معصوم تھا۔لیکن اس ایک ہی مادی جسم کے اندر ”ابن اللہ“ کے پہلو بہ پہلو جو انسان موجود تھا اس کے متعلق کیا سمجھا اور کیا نظریہ قائم کیا جائے۔یعنی یہ کہ کیا وہ بھی تو ارثی اجزا (Genes) اور ان کے نتیجہ میں تشکیل پانے والے کردار کی ہی پیداوار تھا جو براہ راست خدا نے مہیا کیے تھے ؟ اگر ایسا ہی تھا تو پھر اسے مسیح کے وجود میں سمویا ہوا ہونے کی حالت میں اُلوہیت کے آئینہ دار طرز عمل اور روش کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔اگر وہ بار بار فرض ناشناسی اور کمزوری کا مظاہرہ کرتا ہوا نظر آتا ہے تو یہ عذر کہ اس سے فرض ناشناسی اور کمزوری اس لئے سرزد ہوئی کہ وہ ایک انسان تھا قابل قبول نہ ہو گا۔اگر مسیح کی ذات میں موجود انسان کے اندر الوہیت کا کوئی جز یا اس کی کوئی رمق تک نہ تھی تو پھر ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ محض ایک عام انسان تھا بلکہ شاید انسان بھی تھا ادھورا۔تاہم