مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 13

ابنیت مسیح کی اصل حقیقت لیکن یاد رکھو! میں آخری پوپ ہوں۔“ مگر انسانوں میں سے سب سے پارسا انسان اور وہ روحانی بزرگ جو اس جنگل میں گنگنا گنگنا کر خدا کی حمد کے ترانے گایا کرتا تھا ( اور جس کی تلاش میں میں یہاں آیا تھا) وہ بھی اب مر چکا ہے۔“ ”جب تلاش بسیار کے بعد مجھے اس کی جھونپڑی ملی تو میں نے اسے اس میں موجود نہ پایا۔اس میں اگر کوئی ملا تو دو بھیڑیے ملے۔وہ آوازیں نکال نکال کر اس کی موت پر رورہے تھے کیونکہ جانور اس سے بہت محبت کرتے تھے۔میں جلدی سے وہاں سے نکل آیا۔“ کیا میں ان جنگلوں اور پہاڑوں میں یونہی بے کار بھٹکنے اور مارا مارا پھرنے کے لئے آیا تھا؟ اس خیال کے آنے پر میرے دل نے فیصلہ کیا کہ میں ان تمام لوگوں میں سے جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے ایک اور سب سے زیادہ پارسا انسان کو تلاش کروں یعنی زرتشت کو ڈھونڈ نکالوں۔“ اس بوڑھے آدمی نے یہ کہا اور گھنے اور اندر اتر جانے والی نظروں سے اسے گھورنے لگا جو اس کے سامنے کھڑا تھا۔زرتشت نے اس بوڑھے پوپ کا ہاتھ تھام لیا اور احتراماً دیر تک اس کی تعریف کرتا رہا۔پھر اس نے کہا: ”اے محترم شخص دیکھ تیر ا ہاتھ کیسا لمبا اور خوبصورت ہے لیکن اب اس ہاتھ نے اسے مضبوطی سے تھاما ہوا ہے جس کا تو متلاشی تھا یعنی تو نے مجھ زرتشت کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے رکھا ہے۔“ ”یہ میں ہی ہوں خدا کی ہستی پر یقین نہ رکھنے والا زر تشت !وہی زرتشت جو یہ کہتا ہے کہ مجھ سے زیادہ خدا کا منکر اور کون ہے کہ میں اس کی تعلیم میں مگن اور خوش رہوں۔“ زرتشت نے یہ کہا اور پھر اپنی گہری اور اندر اتر جانے والی نظر سے اس بوڑھے پوپ کے خیالات اور مخفی جذبات کو بھانپنے اور جاننے کی کوشش کی۔آخر کار اس (بوڑھے پوپ) نے کہنا شروع کیا: ”جو اس کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرتا تھا اور جس نے اس کو سب سے زیادہ اپنایا ہوا تھا اسی نے اب اس کو سب سے زیادہ گمشد شد کر کے فراموش کر دیا ہے۔“ دیکھو! کیا اب میں ہم دونوں میں سے زیادہ خدا کا منکر نہیں ہوں۔“ 13