مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 4

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک اگر یہ مان لیا جائے کہ خدا خود مسیح کا باپ تھا تو کئی امکان ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ایک امکان یہ ہو سکتا ہے کہ خدا بھی انسانوں جیسے کروموسومز اپنے وجود میں رکھتا ہے اور اس کے یہ کروموسومز کسی نہ کسی طور مریم کے رحم میں منتقل کیے گئے ہوں گے۔ایسا ہونا اس درجہ نا قابل یقین ہے کہ اسے کسی صورت بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔اگر یہ مان لیا جائے کہ خدا انسانوں والے کروموسومز رکھتا ہے اور وہ اس کے وجود کا حصہ ہیں تو ایسا وجود خدا نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ جسے انسانی مجبوری لاحق ہو وہ خدا ہو ہی نہیں سکتا۔بنابریں اس بات پر ایمان لانے یا یہ اعتقاد رکھنے سے کہ مسیح خدا کا حقیقی بیٹا ہے خود باپ کی الوہیت معرض خطر میں پڑے بغیر نہیں رہتی۔دوسر ا امکان یہ ہو سکتا ہے کہ خدا نے مطلوبہ تعداد کو پورا کرنے کی غرض سے زاید یا بقیہ کروموسومز اپنی صفت خلق کے ایک غیر معمولی مظہر کے طور پر پیدا کر دکھائے تھے۔دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ کروموسومز خدا کی اپنی ذات یا وجود کا حصہ نہ تھے بلکہ اس نے انہیں معجزانہ طور پر پیدا کیا تھا۔یہ امکان از خود ہمیں اس امر کا مستلزم ٹھہراتا ہے کہ ہم خدا اور مسیح کے درمیان حقیقی معنوں میں باپ بیٹے کے رشتہ کو یکسر مسترد کر دیں اور نتیجہ یہ اخذ کریں کہ پوری کائنات کا جو ہمہ گیر رشتہ اپنے پیدا کرنے والے خدا کے ساتھ ہے وہی رشتہ مسیح کا بھی خدا کے ساتھ تھا اور یہ ایسا عمومی رشتہ ہے جو جملہ مخلوقات کا اپنے خالق کے ساتھ پہلے ہی ابتداء سے چلا آرہا ہے۔کیا خدا کا کوئی حقیقی بیٹا ہونا ممکن ہے؟ یہ امر ظاہر وباہر ہے کہ کسی کا خدا کے ساتھ حقیقی ابنیت کا رشتہ قائم ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ حقیقی بیٹا ماں اور باپ دونوں کے وجودوں سے حصہ لے کر معرض وجود میں آتا ہے۔حقیقی بیٹے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا اپنا امتیازی کردار آدھا باپ کے کردار کا عکس ہو اور آدھاماں کے کردار کا آئینہ دار۔اندریں صورت خدا کے ساتھ حقیقی ابنیت کے تعلق کے نتیجہ میں یہ مشکل سر اٹھائے بغیر نہیں رہتی کہ ایسا بیٹا لازماً آدھا انسان ہو گا اور آدھا خدا۔اس واضح اور کھلی حقیقت کے باوجود جو لوگ مسیح کی حقیقی ابنیت کے قائل ہیں وہ باصرار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسیح کامل انسان اور ساتھ ہی کامل خدا بھی تھا۔ابنیت کا تصور اس دعوے کو از خود باطل کر دیتا ہے۔اگر یہ مان لیا جائے کہ جو کروموسومز مسیح کی پیدائش میں کام آئے وہ اصل مطلوبہ تعداد سے نصف یعنی صرف 23 ہی تھے تو ثابت شدہ سائنسی حقیقت کی رو سے مسئلہ کوئی رہتا ہی نہیں کیونکہ ایسی صورت میں