مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 5
5 انیت مسیح کی اصل حقیقت بچہ کے پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔تاہم بعض ممکنہ پہلوؤں کی وضاحت کی خاطر ہم فرض کر لیتے ہیں کہ واقعہ ایسا ہی ہو ا یعنی محض 23 کروموسومز کے ساتھ ہی بچے نے جنم لیا تو صاف ظاہر ہے کہ کروموسومز کی تعداد نصف ہونے کے باعث ایسا بچہ پورا نہیں بلکہ صرف آدھا انسان ہو گا۔پھر سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ 23 مکمل کروموسومز کا کم ہونا تو بہت بڑی بات ہے میڈیکل سائنس کی رو سے صرف ایک کروموسوم کا ایک ناقص توارثی جرثومہ ( جسے انگریزی میں "جین “ کہتے ہیں) بچہ میں پیدائشی نقص کا موجب بن کر اس کے حق میں قیامت ڈھا سکتا ہے۔ایسا بچہ اندھا یا گونگا بہرایا اعضا کی وجہ سے اپاہج ہو سکتا ہے۔ایسے افسوس ناک حادثہ کے ساتھ وابستہ خطرات کا کوئی شمار ممکن نہیں۔انسان کو حقیقت پسندی سے کام لینا چاہیے جس طرح 23 کروموسومز سے بچہ نہیں بن سکتا اسی طرح یہ سمجھنا کہ خدا کے بھی کروموسومز ہوتے ہیں خدا کی شان اقدس میں بہت بڑی گستاخی ہے۔مسیح کی پیدائش میں خدا کی ذاتی اور جسمانی شرکت بہر طور خارج از مکان قرار پاتی ہے۔اور اگر بچہ صرف اور صرف مریم کے جسم میں موجود انسانی خصائل کے حامل توارثی جینز کے ساتھ ہی پیدا ہوا تو وہ خدا کا بیٹا نہیں ہو سکتا تھا۔مزید بر آں وہ پورا نہیں بلکہ محض آدھا انسان ہی قرار پاسکتا تھا اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایسے نامکمل انسان نما عجوبہ کو خدا کا بیٹا کہا جاتا تو یہ کیسا مکروہ فعل شمار ہوتا۔اب رہا یہ سوال کہ پھر مسیح محض یک طرفہ طور پر مریم کے بطن سے پیدا ہوا کیسے ؟ اس بارہ میں ہم سب جانتے ہیں کہ مرد کی شرکت کے بغیر ایک کنواری ماں کا اکیلے ہی بچہ کو جنم دینا ایک ایسا معاملہ ہے جس کے متعلق فی زمانہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں ریسرچ ہو رہی ہے۔تاہم اس بارہ میں انسانی علم ابھی تک ایک حد سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے اور تحقیق سر دست اس فیصلہ کن مرحلہ تک نہیں پہنچی ہے کہ اس امر کے ناقابل تردید دلائل و شواہد فراہم ہو سکیں کہ فی الواقعہ مرد کی شرکت کے بغیر کنواری ماؤں کے بطن سے از خود بچے پیدا ہو سکتے ہیں۔البتہ یہ سارا معاملہ ہنوز زیر تحقیق ہے اور ہر قسم کے امکانات کا راستہ کھلا ہے۔ابھی محققین اس کے حق میں یا خلاف کسی حتمی یا آخری نتیجہ پر نہیں پہنچے ہیں۔عین ممکن ہے کہ یہ معاملہ بھی سائنسی بنیادوں پر دو اور دو چار کی طرح پایہ ثبوت کو پہنچ جائے۔زندگی کی نچلی سطح پر یعنی کیڑوں مکوڑوں وغیرہ کی افزائش کے بارہ میں قدرت کے دو مظاہر ایسے ہیں جنہیں ثابت شدہ سائنسی حقائق کے طور پر تسلیم کیا جاچکا ہے۔ان میں سے افزائش نسل کا ایک طریق ہر مافروڈٹ ازم (Hermaphroditism) کہلاتا ہے اور دوسرے طریق کے لئے پار تھینو جینس