مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 157
157 مسیحیت آج کے دور میں تاریخ کو لفظاً لفظاً صحیح مانے یا اسے استعارہ کے رنگ میں تمثیلی حیثیت دینے کا مشغلہ ہر کسی کے لیے ایک کھیل بن کر رہ جاتا ہے۔اندریں حالات باہم مخالف و متناقض تشریحات کی دلدل میں قدم رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس طرح یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔اس بھاری مشقت سے بچنے اور الجھن سے نکلنے کا ایک راستہ ہم قارئین کو دکھا سکتے ہیں سو ہم انہیں اس راستہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔اب یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے کہ چاہیں تو اس راستہ کو اختیار کریں اور چاہیں تو اسے رد کر دیں۔بحث و تمحیص اور استدلال کی خاطر آئیے ہم ایسے تمام مذہبی رہناؤں کے بارہ میں دعاوی کو کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے تھے درست تسلیم کر لیتے ہیں اور انہیں جس طرح کہ وہ بیان کیے جاتے ہیں لفظاً لفظاً درست مان لیتے ہیں۔اگر یسوع مسیح کے آسمان پر جانے کے مبینہ واقعہ کو سطحی انداز میں جوں کا توں تسلیم کر لیا جائے اور اس کی آمد ثانی کو بھی لفظاً لفظاً مبنی بر حقیقت مان لیا جائے تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم دنیا میں بیان کیے جانے والے اسی طرح کے دوسرے واقعات کو درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیں۔الیاس، شاہ عالم یا اسلام میں شیعہ فرقہ کے بارہویں امام یا ہندوؤں کے خداؤں یا دوسری مقدس ہستیوں کے آسمان پر جانے کو ( جن کے متعلق گمان کیا جاتا ہے کہ خدا نے ان کی شخصیت میں کبسم اختیار کیا تھا) آخر کیوں درست تسلیم کرنے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔لہذا محفوظ اور بہتر طریق یہی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ جو ایسی بے سروپا باتوں پر اعتقاد رکھتے ہیں بے مقصد بحثوں میں الجھنے سے پر ہیز کیا جائے۔خیالی پلاؤ کے رنگ میں بے سروپا تصوراتی باتوں پر ایمان رکھنے والے ایسے بھولے اور ضعیف الاعتقاد لوگوں سے پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا وہ ان لوگوں میں سے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان پر چڑھ کر بہت دور دراز واقع اپنی آسمانی آرام گاہوں میں جا چھپے اور وہیں غائب ہو گئے کسی ایک کے متعلق بتا سکتے ہیں کہ وہ کبھی زمین پر واپس آیا تھا۔کیا پوری انسانی تاریخ میں سے ایک مثال ایسی پیش کی جاسکتی ہے کہ کوئی شخص جو مبینہ طور پر جسدِ عصری کے ساتھ آسمان پر گیا تھا وہ جسمانی طور پر واپس بھی آیا ہو ؟ اگر کوئی ایسی مثال ہے تو ہمیں بھی دکھائی جائے۔ایسے دعاوی کے کبھی پورا نہ ہو سکنے اور پورا ہونے کی کسی ایک مثال کے بھی موجود نہ ہونے کے پیش نظر ہمارے لیے دوراہوں میں سے ایک منتخب کرنے کے سوا چارہ نہیں رہتا۔یا تو ہم ایسے دعاوی کو دھو کے یا مغالطہ پر مبنی قرار دے کر یک قلم مسترد کر دیں یا انہیں استعارہ قرار دے کر تمثیلی رنگ میں انہیں قبول