مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 156

میسحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک کوشش کریں اس سوال کو حل کرنا از بس ضروری ہے۔156 کیا دنیا ( خواہ وہ عیسائی دنیا ہو یا مسلم دنیا) نفسیاتی طور پر اس ذہن اور مزاج کی حامل ہے کہ وہ یسوع کی آمد ثانی کو قبول کرنے کے لئے بے تاب بیٹھی ہو ؟ اگر وہ اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ کس شکل اور انداز میں اس کے آنے اور اسے قبول کرنے پر آمادہ ہے؟ جب مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے واضع اور غیر مبہم نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو ان کے نزدیک اگر یسوع نے واپس آنا ہی ہے تو بڑی شان و شکوہ کے انداز میں اور بڑے ہی روشن نشانوں کے ساتھ آئے گا۔وہ بقول ان کے دن کے روشن اُجالے میں آسمان سے، اپنے فرشتوں کا سہارا لیے اس طور سے نازل ہو گا کہ انتہائی شکی مزاج انسان کے لئے بھی اسے قبول کرنے سے انکار کرنا ممکن نہ رہے گا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کی دنیا کے لئے محض خوابوں کی دنیا میں بسا ہوا ایک خیالی یسوع ہی قابل قبول ہے۔ایسا یسوع نوع انسان کی پوری تاریخ میں پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوا۔اگر مذہبی تاریخ کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے تو بیسیوں مثالیں ایسی نظر آتی ہیں کہ بانیان مذاہب یا دوسری مقدس ہستیوں کے بارہ میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ سب آسمان کی طرف صعود کر گئے تھے۔ایسے دعاوی اس قدر وسیع پیمانہ پر اور اس قدر زیادہ تعداد میں ملتے ہیں کہ ان کا شمار بھی مشکل ہے۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ عالمگیر سطح پر انسان میں یہ رحجان پایا جاتا ہے کہ اپنے مذہبی رہنماؤں کا مرتبہ بلند کرنے اور انہیں انسانیت کی حدود و قیود سے بالا ہستی کا حامل قرار دینے کے لئے وہ ایسی بے سر و پا کہانیاں ضرور گھڑ لیتے ہیں۔سوال یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ہم اس نوعیت کی مبینہ باتوں کو جنہیں دنیا کے اربوں انسان آج بھی درست تسلیم کرتے ہیں کیسے جھٹلا سکتے ہیں؟ صرف ان مسلمانوں اور عیسائیوں کی تعداد جو ان یا ان جیسے دوسرے انوکھے واقعات پر ایمان رکھتے ہیں اور انہیں دل سے سچا جانتے ہیں دو ارب سے بھی زیادہ ہے سو ایک قاری یہ پوچھ سکتا ہے کہ ہمیں یاد نیا میں کسی اور کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وسیع پیمانہ پر مسلمہ ایسے عقائد کو غیر حقیقی اور تصوراتی قرار دے کر ان کا انکار کر دیا جائے۔ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسے دعاوی کو جھٹلانے اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ خود ان مذاہب کے صحائف (اور بالخصوص ان کے قدیم نسخوں) سے ان دعاوی کی تائید نہیں ہوتی، بے انتہا محنت و مشقت در کار ہو گی۔ایک دفعہ مماثل و متبادل تو جیبات و تشریحات کی دھند میں قدم رکھنے کے بعد معاملہ آکر ختم ہو جاتا ہے انتخاب و ترجیحات پر یعنی کوئی کسی تشریح کو پسند کرتا ہے اور کوئی کسی اور تشریح یا توجیہ کو باقی تمام دوسری تشریحات و توجیہات پر ترجیح دیتا ہے۔اس کے نتیجہ میں صحائف یا مر قومہ مذہبی