مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 155
155 مسیحیت آج کے دور میں درجہ دینے کی مساعی کا آغاز کرتے ہیں۔اسی لئے ان کی بعثت ثانیہ کے وقت یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ لوگ انہیں آسانی سے قبول کر لیں۔جب اپنے خیالات کی دنیا میں مگن رہنے والے اس طرح کے مذہبی لوگوں کو آسمانی مصلحین کی صداقتوں کی حقیقتوں سے واسطہ پڑتا ہے جو ہمیشہ عام انسانوں کی طرح ظاہر ہوتے ہیں تو وہ انہیں فی الفور مستر د کر دیتے ہیں۔جب کوئی کسی پری کے آنے یا بھوت پریت کے ظاہر ہونے کا منتظر ہو وہ اس کی بجائے کسی عام انسان کے ظاہر ہونے کو کیسے قبول کر سکتا ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ دنیا مسیح کی بعثت ثانی کو جو پہلے ہی ظہور میں آچکی ہے مشاہدہ کرنے اور پہچاننے میں ناکام رہی۔اس نے ظاہر ہونے والے مسیح کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔شاید بعض لوگوں کے نزدیک یہ ایک بہت بڑا دعوی ہو ( کہ مسیح کی بعثت ثانی پہلے ہی ظہور میں آچکی ہے پر بعثت اولی کی طرح اب کے بھی اسے پہچاننے میں ناکام رہی) اور عین ممکن ہے کہ اکثر قارئین اس دعوی کو یکدم مسترد کر دیں اور سوچیں کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مسیح آیا بھی اور چلا بھی گیا اس حال میں کہ دنیا کو اس کے آنے کی کوئی خاص خبر نہ ہوئی اور اس نے اتنے اہم واقعہ کی طرف کوئی توجہ ہی نہ کی؟ وہ اس طرح کیسے آسکتا اور آنے کے بعد واپس جا سکتا تھا کہ پوری دنیائے عیسائیت اور سارے عالم اسلام نے اس کی طرف کوئی دھیان ہی نہ دیا؟ از منہ جدید نے ایسے بہت سے مدعی دیکھے ہیں جنہوں نے وقتی ہلچل مچائی لیکن آج وہ کہاں ہیں اور کون انہیں جانتا ہے؟ یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ اس میں بہت سے ملکوں میں خودرو پودوں کی طرح نئے نئے مسلک پھوٹ نکلتے ہیں اور اسی طرح وقفہ وقفہ سے مسیح کے واپس آنے کے بڑے ہی انوکھے دعوے یا اس کے عنقریب آنے کا اعلان کرنے والے نقیبوں کے دعوے سننے میں آتے رہتے ہیں۔شاید یہ دعویٰ بھی ایسے ہی دعووں میں سے ایک دعویٰ ہو سکتا ہے اس لئے ایک سنجیدہ مزاج شخص اس کے متعلق غور اور سوچ بچار سے کام لے کر اپنا وقت کیوں ضائع کرے؟ یہ صحیح ہے کہ اس بارہ میں بڑے ہی گہرے شبہات پیدا ہوں گے اور لوگوں کو ایک عجیب الجھن در پیش آئے گی لیکن ہم ایسے قاری کی توجہ ایک خاص امر کی طرف مبذول کرانے کی جسارت کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ ذرا اس صورت حال کو ذہن میں لائیں اور ذہنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کریں کہ جب مسیح فی الحقیقت دنیا میں آجائے گا لیکن اس سے پہلے ذہنی طور پر یہ فیصلہ کرناضروری ہے کہ کیا اس کا آنا محض ایک خیال یا تصور کی حیثیت رکھتا ہے وہ بنفس نفیس یا اپنے کسی نمائندے کے ذریعہ فی الحقیقت دنیا میں دوبارہ آسکتا ہے؟ قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مندرجہ بالا شبہات کے ازالہ کے رنگ میں کچھ عرض کرنے اور جواب دینے کی