مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 154

154 مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک یہ کسی لحاظ سے بھی کوئی نیا نظریہ نہیں ہے کہ اگر بعد میں آنے والے کسی زمانہ میں پید اہو ا تو نہ صرف یہ کہ وہ اس وقت کے مسیحی کلیسیا کا سر براہ نہیں بن سکے گا بلکہ اغلبا اس کا مسیحی کلیسیا سے کوئی تعلق یا واسطہ ہی نہ ہو گا۔ہو گا یہ کہ کلیسیا کے بہت ہی پر شکوہ اور قوت و اقتدار کے دور میں اس نو وارد مدعی مسیحیت کے ملحد ہونے کا اعلان کر دیا جائے گا اور اسے تعذ یہی ستون یا کھمبے سے باندھ کر نذر آتش کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔خود ہمارے انتہائی روشن خیال زمانہ میں کلیسیا نے اپنے مخالف مسیح کے خدوخال اور خصائص کو اگر ترک کیا بھی ہے تو ظاہر ی لحاظ سے کیا ہے ( فرق یہ پڑا ہے کہ اب وہ انہیں چھپانے لگے ہیں۔شاید مسیح فقیہوں اور فریسیوں کے ہاتھوں دکھ اٹھائے اور ظلم سے بغیر ( آبادیوں سے دور ) صرف روسی راہب خانہ میں ہی زندگی گزار سکتا تھا۔“ (P۔D۔Ouspensky, ‘A New Model of the Universe' p۔149-150۔Kegan paul, Trench, Trubener & Co۔Ltd۔1938) یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے مطابق خدائی پیغمبر اور آسمانی مصلح دنیا میں بھیجے جاتے ہیں۔اس کے سوانبیوں اور مصلحین کے مبعوث کیے جانے کا جو بھی تصور یا نظریہ ہے وہ محض بناوٹی اور جعلی ہے اور اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ہمیشہ یہی ہوتا ہے اور ہمیشہ یہی ہوتا چلا آرہا ہے کہ جب آسمانی پیشگوئیوں کے مطابق خدائی ماموروں کی بعثت ظہور میں آتی ہے تو وہی لوگ جن کی اصلاح اور نجات کے لئے ان ماموروں کو بھیجا جاتا ہے انہیں شناخت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ تاریخ کے اس مرحلہ میں وہ پہلے ہی اپنے آنے والے مصلح اور نجات دہندہ کی ہستی کو حقیقت کی بجائے تصوراتی سانچے میں ڈھال چکے ہوتے ہیں۔وہ تو قع یہ کر رہے ہوتے ہیں کہ آنے والے مصلح کا ان کے خواب و خیال میں جو نقشہ بسا ہوا ہے اس کے مطابق ہی کوئی مصلح ان کی نجات کے لئے مبعوث ہو گا۔جبکہ تاریخی حقیقت اسی انداز میں اپنے آپ کو دہراتی ہے جس انداز میں وہ سب سے پہلے مصلح کی بعثت کے وقت سے اپنے آپ کو دہراتی چلی آرہی ہے۔آسمانی مصلح ہمیشہ عاجز انسانوں کی حیثیت سے ظاہر ہوتے ہیں۔وہ انسانی ماؤں کے بطن سے ہی جنم لیتے ہیں اور اپنی زندگی میں وہ ہمیشہ انسان ہی تصور کیے جاتے ہیں اور انسانوں والا سلوک ہی ان کے ساتھ روار کھا جاتا ہے۔ان کی وفات کے بہت بعد ایسا ہوتا ہے کہ لوگ انہیں خدائی صفات سے متصف کرنے اور انہیں رفتہ رفتہ خدا کا