مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 153
153 مسیحیت آج کے دور میں دیکھے گی۔خدا انسان کے روپ میں اس شان سے اتر رہا ہے کہ فرشتوں کے ایک جم غفیر نے اسے سہارا دیا ہوا اور ساتھ کے ساتھ وہ اس کی حمد کے ترانے بھی گارہے ہیں۔یہ پورا تصور ہی ایسا ہے کہ انسانی عقل و دانش اور منطق نیز انسانی ضمیر ان میں سے ہر ایک اس سے کراہت محسوس کرتا اور اسے دھتکار دیتا ہے۔یہ پریوں کی کہانیوں کی طرح سراسر لا یعنی ایک ایسی کہانی ہے جو انسانی استعدادوں اور صلاحیتوں کو تھپک تھپک کر سلا دینے کے لئے پہلے شاید ہی کبھی گھڑی گئی ہو۔بر خلاف اس کے اگر یسوع مسیح کی حیثیت اور مقام کے متعلق فہم و ادراک پر پورے اترنے والے جماعت احمد یہ کے نظریہ اور عقیدہ کو تسلیم کر لیا جائے تو سہانے خوابوں کی پوری تخیلاتی صورت حال حقیقت کے آئینہ دار ایک ایسے منظر نامہ میں بدل جاتی ہے جو نہ صرف انسانی فہم کے لئے قابل قبول ہے بلکہ وہ جسے نوع انسانی کو پوری تاریخ کی زبر دست تائید و حمایت حاصل ہے ایسی صورت میں ہم ایک ایسے نجات دہندہ کے منتظر ہوں گے جو بعثت اولی کے مسیح سے ہر گز مختلف نہیں ہو گا۔ہم ایک ایسے عاجز انسان کے مبعوث ہونے کی توقع کر رہے ہوں گے جو بعثت اولی کے مسیح کی طرح عام انسانوں کے مانند پید اہو اہو گا اور جو اپنی اصلاحی مہم کا اسی انداز سے آغاز کرے گا جیسے کہ پہلے مسیح نے کیا تھا۔وہ مذہبیا انہی لوگوں میں سے ہو گا جو اپنے اعمال و کر دار اور حال احوال کی رو سے یہودیہ (Judea) کے یہودی باشندوں سے مماثلت رکھتے ہوں گے اور وہ لوگ اس کے موعود مصلح ہونے کے دعوی کو جھٹلا کر نہ صرف اس سے لا تعلقی کا اعلان کریں گے بلکہ اسے اور اس کے مشن کو ملیامیٹ کرنے کے لیے وہ سب حربے استعمال کریں گے جنہیں استعمال کرنا ان کے بس میں ہو گا۔دوسری بار آنے والا مسیح وہ پوری زندگی دوبارہ بسر کرے گا جو پہلی بار آنے والے نے اس سر زمین پر بسر کی تھی اور اس کے ساتھ بھی پہلے جیسا ہی نفرت بھرا، اہانت آمیز اور کبر و غرور کا آئینہ دار سلوک کیا جائے گا۔وہ اپنے لوگوں کے ہاتھوں دکھ نہیں اٹھائے گا بلکہ ایسی ہی معاند طاقتوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے گا جنہوں نے بعثت اولی کے وقت پہلے مسیح کی مخالفت کی تھی اور اسے ظلم و ستم کا تخیر مشق بنایا تھا۔وہ نیا آنے والا اس عظیم بیرونی حکمران طاقت کے ہاتھوں بھی دکھوں میں مبتلا کیا جائے گا جس کے زیر تسلط وہ محکوم لوگوں میں پید ا ہوا ہو گا۔بیسویں صدی کے اوائل زمانہ کے ایک ممتاز روسی صحافی پی۔ڈی۔آؤں پنسکی۔P۔D) (Ouspensky نے مسیح کی آمد ثانی کے موضوع پر لکھتے ہوئے اپنی کتاب میں اس جیسے ہی نظریہ کا اظہار کیا ہے۔وہ لکھتا ہے :-