مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 127

127 تثلیث اشارہ مضمر ہے۔کہنا مجھے اب یہ ہے کہ میں اس مسئلہ پر مسیح کی اصل اور حقیقی تعلیم کی رُو سے بحث کرنا نہیں چاہتا۔اس مقالہ میں موجودہ زمانہ کے عیسائی عقائد پر تنقیدی نظر ڈالنے اور انہیں پر کھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ان عقائد کے بارہ میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ عقائد مسیح کی اصل تعلیم سے بہت دور ہٹ کر کچھ اور ہی شکل اختیار کر چکے ہیں۔میری طرف سے اس انکار کے بعد کہ بائبل میں ایسا کوئی حوالہ یا اشارہ موجود نہیں ہے جس کی رو سے یہ ثابت ہو سکے کہ خدا کے علاوہ مسیح کی بھی باقاعدہ عبادت کی جاتی تھی میرے لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ میں لوقا کی انجیل کے باب 24 کی آیت 52 میں پوشیدہ ایک اس نوعیت کے حوالہ کی وضاحت کروں۔بعض مسیحی یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ آیات اس امر کا ثبوت مہیا کرتی ہیں کہ مسیح نے خود اپنے پیروؤں کو تلقین کی کہ وہ اس کی بھی عبادت کیا کریں۔عصر حاضر کے عیسائی سکالرز اس امر سے خوب باخبر ہیں کہ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ یہ آیات اصلی نہیں بلکہ وضعی ہیں اور اس بات کی ہر گز حق دار نہیں ہیں کہ انہیں سینٹ لوقا کی انجیل کا اصلی اور مستند حصہ شمار کیا جائے۔اب ہم مسیحی صاحبان کے عام مروجہ طریق اور عمل کی طرف آتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ آیا ان کے اس مروجہ طریق اور عمل کو انجیل کی تائید حاصل ہے یا نہیں۔فی زمانہ بہت سے مسیحی فرقوں کے طرزِ عمل کی رُو سے خدا کے بیٹے کی حیثیت سے مسیح کی یقیناً پرستش کی جارہی ہے۔بایں ہمہ وہ سب فرقے اس بات پر بھی متفق ہیں کہ وہی مسیح جس کی وہ پرستش کرتے ہیں وہ خود صرف ”باپ خدا کی اور صرف اور صرف اسی کی عبادت کیا کرتا تھا۔میں نے بار ہا مسلمہ عیسائی سکالرز سے اس بات کی وجہ پوچھی ہے کہ اگر مسیح خود خدا کا جز ولا نیفک تھا اور اس طرح کامل اور مکمل طور پر اس میں مدغم تھا کہ تین علیحدہ علیحدہ شخصیتیں موجود ہونے کے باوجود ان کے باہم مدغم ہونے سے خودان میں وحدانیت کا تصور ابھرے بغیر نہ رہتا تھا تو پھر مسیح کے ”باپ خدا کی عبادت کرنے کی وجہ کیا تھی اور وہ کیوں اس کی عبادت کر تا تھا لیکن کوئی ایک سکالر بھی مجھے اس کا جواب نہیں دے سکا اور میری یہ کوشش ہمیشہ رائیگاں ہی گئی۔ایک نہیں، اس بارہ میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔کیا مسیح نے کبھی تثلیث کے تیسرے جزو یعنی روح القدس کی بھی عبادت کی؟ کیا وہ کبھی اس امر کا بھی مر تکب ہوا کہ اپنی پرستش آپ کرے؟ کیا روح القدس نے کبھی مسیح کی پرستش کی؟ کیا ”باپ خدا“ نے کبھی تثلیث کے بقیہ دوا قائیم کولا ئق عبادت گر دانا اور اپنے لئے خود ان کی عبادت کو