مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 121

121 تثلیث اجزائے ترکیبی کا جزولاینفک بنارہا اور محض ایک اضافی مصروفیت کے رنگ میں وہ اپنے طور پر انسانی جسم میں بھی سمایا رہا۔یہاں ایک اور سوال کا جواب حاصل کرناضروری ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے: 3۔کیا انسانی جسم میں اس کی پوری کی پوری مقدس خدائی ہستی سمائی ہوئی تھی یا اس خدائی ہستی کا جس میں ( باپ خدا) اور روح القدس بھی برابر کے شریک تھے صرف ایک حصہ (انسانی جسم میں سمانے کے لئے ) اسی طرح آگے کو جھک گیا تھا جس طرح پانی میں پائے جانے والی امیبا (Amoeba) نامی زندہ کیڑے کی ایک انگلی اس کے باقی وجود سے باہر نکلی ہوئی ہوتی ہے؟ منظر نامہ کے طور پر ابھرنے والی اس صورت حال میں ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس دور میں مسیح اپنے دو شریک ساتھیوں ( ”باپ خدا اور روح القدس دونوں) سے بھی عظیم تر تھا کیونکہ وہ اپنے باپ ” اور روح القدس کے ساتھ ایک ہی خدائی شخصیت میں شریک بھی تھا اور ایمی با کیڑے کی باہر نکلی ہوئی انگلی کی طرح اپنی ایک علیحدہ ہستی بھی رکھتا تھا جس میں ”باپ ” اور روح القدس شریک نہ تھے۔اس صورت حال اور اس کی مختلف کیفیات کو سمجھانے کی خاطر ہم بعض مفروضات کو ذہن میں لا کر اس صورت حال میں پوشیدہ تناقضات اور نامعقولیتوں کو ازراہِ امثال بیان کرتے ہیں۔قارئین کو ان مثالوں کو زیر نظر صورت حال پر لفظاً لفظا چسپاں کرنے اور اسے صحیح سمجھنے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہو نا چاہیے۔مفروضے محض سمجھانے کے لئے بیان کیے جاتے ہیں تاکہ اصل حقائق کو پر کھنے میں مددمل سکے۔اصل مسئلہ ہمارے سامنے یہ ہے کہ شخص ایک ہی ہے اور اس سے مختلف قسم کے اعمال و افعال اور احوال و عواقب ظاہر ہو رہے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ آیا ان کے ذریعہ وہ اپنی مختلف صفات کا اظہار کر رہا ہے یا یہ احوال و عواقب اس کے سلسلہ وار مختلف حالتوں اور حیثیتوں میں سے گزرنے پر دال ہیں۔اس مسئلہ کی روشنی میں ہم نے تین ہستیوں کے ایک “ اور ” ایک ہستی کے تین “ ہونے کے مسیحی عقیدہ کا جائزہ لینا ہے اور جائزہ بھی لینا ہے اس زاویہ نگاہ سے کہ ”ایک میں تین“ اور ”تین میں ایک “ کی کیفیت اس امر کے مترادف بھی تو ہو سکتی ہے کہ ایک ہی ہستی سے اس کی مختلف حیثیتوں یا مختلف ادوار میں اس کے اپنے مختلف اوصاف اور مزاجوں کا اظہار ہو رہا ہے۔یعنی ہستی ایک ہی ہے لیکن اس کی صفات ، اس کی حیثیتیں، اس کی حالتیں اور اس کے مزاج مختلف ہیں جنہیں نام دے دیا گیا ہے علیحدہ علیحدہ ہستیوں کا۔اس صورت حال پر ہم ایک گزشتہ باب میں خاصی تفصیل سے غور کر چکے ہیں۔یہاں ہم صرف اس نکتہ پر زور دینا چاہتے ہیں کہ ایک شخص یا ایک ہستی جب مختلف حیثیتوں کا اظہار کرتی ہے تو وہ اپنے آپ کو مختلف حصوں میں تقسیم کیے