مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 117

117 تثلیث مضبوطی اختیار کرتی چلی گئی۔اس سارے معاملہ کا پتہ لگانا ہماری موجودہ بحث کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ہم فی الوقت صرف ایسے دعاوی اور عقائد کی نا معقولیت کا جائزہ لینا چاہتے ہیں جو انسانی فہم و فراست اور ادراک سے کوئی علاقہ نہیں رکھتے کیونکہ انسانی فطرت ایسے خیالات و نظریات کو جو خود اپنی ذات میں باہم متناقض و متباین ہوں یکسر مستر د کر دیتی ہے۔تثلیث کے عناصر ترکیبی کے باہمی رشتہ کی نوعیت جب ہم مسیحی خدا اور اس کی الوہیت کے تین عناصر ترکیبی یا اقانیم (باپ، بیٹا اور روح القدس) کے باہمی تعلق کو تصور میں لانے کی کوشش کرتے ہیں تو احوال کی جو ممکنہ صورتیں یا منظر نامے ابھر کر سامنے آتے ہیں وہ یہ ہیں: ا۔وہ تینوں عناصر ایک ہی ہستی کی مرحلہ وار رو نما ہونے والی حالتوں اور حیثیتوں یا اس کے مختلف پہلوؤں کے آئینہ دار تھے۔ب۔وہ تین مختلف ہستیاں تھیں جو باہمی طور پر ابدیت میں دائمی طور پر شریک تھیں۔ج۔وہ تین ہستیاں تھیں اور انفرادی حیثیت میں اپنی بعض امتیازی صفات یا خصوصیات رکھتی تھیں اور شریک نہیں تھیں۔د۔وہ تھیں تو تین ہی ہستیاں لیکن وہ تینوں ایک ہی ہستی میں سمائی ہوئی تھیں۔وہ مکمل طور پر ایک ہی نوعیت کی صفات و خصوصیات اور ایک ہی نوعیت کی یکساں طاقتوں اور قدرتوں اور اختیارات کی مالک تھیں۔اور وہ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست و مدغم تھیں کہ ان کے علیحدہ علیحدہ کاموں کی تخصیص ممکن نہ تھی۔اب ہم مندرجہ بالا چاروں امکانی صورتوں یا منظر ناموں کو سلسلہ وار باری باری اسی ترتیب سے زیر غور لاتے ہیں۔ایک ہی یعنی اکیلی ہستی کی مختلف حیثیتیں یا مختلف پہلو جہاں تک امکان مندرجہ عنوان بالا کا تعلق ہے اس پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں کیونکہ آج کے زمانہ میں شاید ہی کوئی عیسائی ایسا ہو جو مسیح کو ایک علیحدہ شخصیت کا مالک سمجھنے کی بجائے اس کی ہستی کو خدا کے کسی ایک پہلو یا کسی ایک حالت و حیثیت کا آئینہ دار یقین کرتا ہو۔تثلیث پر ایمان رکھنے والے تین مختلف شخصیتوں کے علیحدہ علیحدہ وجود پر اصرار کرتے ہیں جو باہم مدغم ہو کر ایک ہستی میں بھی ڈھلی ہوئی تھیں۔