مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 111
111 زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ جن میں لوگ قریباً نا ممکن صورت حال کے باوجود موت کے منہ میں سے بچ نکلے اور پھر عرصہ تک زندہ سلامت موجود رہے۔ایسے واقعات کی بے شمار شہادتیں عام ملتی ہیں۔تقسیم برصغیر سے پہلے کے زمانہ میں ایک چھوٹی سی ریاست کے مہاراجہ کا بعینہ اسی طرح کا ایک مصدقہ اور ریکارڈ شدہ واقعہ اس قابل ہے کہ اسے یہاں بیان کیا جائے۔اس مہاراجہ کو قریباً ایسی ہی ناممکن صورت حال سے دوچار کر دیا گیا تھا اور بظاہر حالات اس سے بچ نکلنے کا بہت ہی کم امکان ہو سکتا تھا۔اس مہاراجہ کی بیوی نے اسے زہر دے دیا تھا اور یوں محسوس ہو تا تھا کہ گویاوہ مر گیا ہے لیکن کالھیث ہونے کے باوجود فی الاصل اس میں جان موجود تھی۔اس کے بیٹے نے اس کی میت چنتا پر رکھ کر آگ لگائی اور جب وہ بھڑ کنے لگی تو اچانک زبر دست طوفان بادوباراں نمودار ہوا۔نتیجی نہ صرف یہ کہ آخر کار وہ موت کے منہ سے بچ نکلا بلکہ قانونی چارہ جوئی کی شکل میں ایک طویل جدوجہد کے بعد اپنے تخت پر وہ دوبارہ متمکن ہوا۔اس کے بیچ رہنے کی روداد اس طرح بیان کی گئی ہے۔بھوال اسٹیٹ کا کمار رامیند را نرائن راؤ ریاست جودھ پور کی زیر ولایت تھا۔اس کے بارہ میں اس الزام کا چرچا عام سننے میں آیا تھا کہ اسے زہر دے دیا گیا تھا۔اس کی حالت غیر ہوتی چلی گئی اور بالآخر اسے مردہ قرار دے دیا گیا اور مئی 1909ء میں اس کے بظاہر مردہ جسم کو کر یا کرم کے لئے مردہ جلائے جانے والے گھاٹ کے احاطہ میں چتا پر رکھ دیا گیا۔حالات سے اس امر کی نشان دہی ہوتی تھی کہ اس قتل عمد میں اصل کردار اس کی بیوی نے ادا کیا تھا۔جلتی چتا پر کر یا کرم مکمل ہونے سے پہلے پہلے یکدم زبر دست طوفان بادوباراں نمودار ہوا۔جو لوگ اس کے جسم کو جلا کر راکھ کر دینے پر مقرر تھے اس زبر دست طوفان کی زد میں آنے سے بچنے کے لئے اس بظاہر مردہ جسم کو چھوڑ کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔بارش نے چتا کی آگ کو بجھا دیا۔سادھوؤں کا ایک گروہ وہاں سے گزر رہا تھا۔انہوں نے دیکھا کہ چتا پر پڑے ہوئے آدمی میں زندگی کے آثار موجود ہیں۔اس طرح اسے بچالیا گیا۔اگلے روز جب سازشیوں کو پتہ چلا کہ کمار کا جسم تو غائب ہو چکا ہے تو انہوں نے کسی اور مرے ہوئے آدمی کے جسم کو جلا کر اور اس کا کر یا کرم کر کے ظاہر یہ کیا کہ کمار واقعی مر چکا ہے۔سادھو اس کمار کو اپنے ساتھ جگہ جگہ لئے پھرے۔قریب المرگ ہو جانے کے تجربہ میں گزرنے کے باعث کمار اپنی یاد داشت کھو بیٹھا تھا۔طاقت بحال ہونے کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ اس کی یاد داشت لوٹنے