مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 192

مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 112

مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 112 لگی۔وہ بارہ سال کے بعد جودھ پور واپس پہنچا۔اپنے ہی شہر کے مانوس ماحول اور قرب و جوار میں پہنچ کر بھولی بسری باتیں یاد آتی چلی گئیں اور اس طرح اس کی یادداشت پورے طور پر بحال ہو گئی۔جب کمار نے اپنی اسٹیٹ دوبارہ حاصل کرنے کے لئے سر کار بالا میں جس کی ولایت اس کی اسٹیٹ تھی سول مقدمہ دائر کیا تو اس کی بیوی اور بعض دوسرے لوگوں نے اس کو جھوٹا ثابت کے لئے جوابی کارروائی کی۔طرفین کی طرف سے بڑی زبر دست مقدمہ بازی ہوئی۔ایک ہزار سے زائد لوگوں نے کمار کے کے حق میں اور چار سو لوگوں نے اس کی بیوی کے حق میں گواہیاں دیں۔اصل مابہ النزاع معاملہ کمار کی شناخت کا تھا کیونکہ عام طور پر لوگوں کے علم میں یہ بات تھی کہ وہ بارہ سال قبل مر گیا تھا۔کمار نے جب اپنی بیوی کے جسم پر ایسی علامتوں کی نشاندہی کی جن کا علم صرف خاوند کو ہی ہو سکتا تھا تو مقدمہ کا فیصلہ اس کے حق میں کر دیا گیا اور اس کی اسٹیٹ اس کے حق میں بحال کر دی گئی۔9 اسی نوعیت کے اور اس سے ملتے جلتے سینکڑوں چھوڑ ہزاروں واقعات ایسے ہوئے ہوں گے جن کی رپورٹ درج نہیں ہوئی اور وہ ضبط تحریر میں نہیں آئے۔جدید طبی سہولتوں ، اخبارات ورسائل اور ابلاغ عامہ کے دیگر وسائل کے طفیل اب تو ایسے بہت سے واقعات علم میں اور ضبط تحریر میں آکر محفوظ ہوتے رہتے ہیں۔اگر معاشرہ کے تمام طبقوں اور مختلف مذاہب اور اخلاقی پس منظر رکھنے والے عام لوگوں کے معاملہ میں یہ بات عقل کے مطابق اور عین قرین قیاس قرار پاسکتی ہے تو ایسا مسیح کے ساتھ ہونا کیوں ممکن نہیں ہو سکتا۔اگر محال کا درجہ رکھنے والی قریباً نا ممکن صورت احوال میں کسی دوسرے کے زندہ بچ نکلنے کا امکان ہو سکتا ہے تو مسیح کے ارد گرد جو مخصوص حالات موجود تھے اور جن میں سے وہ گزر رہا تھا ان کے پیش نظر مسیح کے زندہ بچ نکلنے کا امکان نسبتا زیادہ تھا۔بہت تعجب انگیز ہے یہ امر کہ متشکلک مزاج لوگ اس بات کو تو فورار د کر دیتے ہیں کہ مسیح صلیب پر عمداً قتل کیے جانے کی کوشش سے زندہ بچ نکلا تھا لیکن اس کے بالمقابل وہ حتمی اور قطعی موت واقع ہونے کے بعد اس کے دوبارہ جی اٹھنے کی انوکھی و نرالی اور سراسر غیر حقیقی اور غیر قدرتی کہانی پر جھٹ ایمان لے آتے ہیں اور پھر وہ حقیقی موت بھی ان کے اپنے اعتقاد کے مطابق ایسی تھی جو پورے تین دن رات طاری رہی۔میڈیکل ریسرچ کے شعبہ نے بھی قریب المرگ حالات کو پہنچنے کے واقعات میں دلچسپی لی ہے۔ایک (مقدمہ بھوال “مرتبہ ہے۔ایم۔مترا اور آر۔سی۔چکر اور تی۔شائع کردہ پیر اینڈ سنز کلکتہ )