مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 97
97 زندگی کی بحالی یا احیائے موتی؟ استغاثہ کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ یہ شخص صلیب دینے کی پہلی کوشش میں کسی نہ کسی طرح موت سے بچ نکلا ہے سو اس کے خلاف جو سزا سنائی گئی تھی اس کے حتمی اور یقینی نفاذ کے لئے اسے ایک دفعہ پھر صلیب دی جائے۔وہ شخص آگے آتا ہے اور اپنا دفاع کرتے ہوئے اپنے استدلال کی بنیاد اس بات پر اٹھاتا ہے کہ وہ یقیناً صلیب پر ایک دفعہ مر گیا تھا اور اس طرح قانون اور انصاف کے تقاضا کو پورا کر کے اس کا مقصد من كل الوجوہ حاصل کر لیا گیا تھا لیکن خدا کے ایک خاص اقتداری حکم کے تحت وہ مردوں میں سے پھر جی اٹھا ہے۔موت کے پہلے فیصلہ کو اب دوبارہ نافذ نہیں کیا جاسکتا۔پہلی زندگی ختم ہو جانے کے بعد وہ نئی مہلت عطا ہونے پر دنیا میں ایک نئی زندگی گزار رہا ہے۔اس نئی زندگی میں اس نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے۔اگر عدالت اس کے اس مؤقف کو تسلیم کر لیتی ہے تو ظاہر ہے اسے ایک ایسے جرم کی دوبارہ سزا نہیں دی جائے گی جس کا بھگتان وہ پہلے ہی بھگت چکا ہے۔اگر ایک عیسائی ملک میں ایک عیسائی حج اور جیوری کے عیسائی ارکان کے سامنے ایک ایسا ہی مقدمہ پیش ہونے کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو سوچنے والی بات یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کتاب کا ایک قاری کیا رائے قائم کرے گا اس بارہ میں کہ وہ حج یا جیوری کے ارکان کیا فیصلہ دیں گے یا یہ کہ انہیں کیا فیصلہ دینا چاہیے ؟ جس شخص کے خلاف مقدمہ کی سماعت ہو رہی ہے اگر اس کے مؤقف کو رد کر دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف علی الاعلان یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اسے دوبارہ صلیب پر لٹکا کر موت کے گھاٹ اتار دیا جائے تو کن بنیادوں اور کیسے اس فیصلہ کو منصفانہ قرار دیا جائے گا؟ یہ امر ظاہر وباہر ہے اور اسے عقل سلیم کی پوری پوری تائید حاصل ہے کہ حج کوئی بھی ہو، عیسائی ہو یا غیر عیسائی اور جیوری کے ارکان بھی صحیح الدماغ ہوں وہ اس مؤقف کو کہ ملزم ایک دفعہ مرجانے کے بعد دوبارہ جی اٹھا ہے پر کاہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیں گے اور ان کا فیصلہ یہی ہو گا کہ ملزم مذکور کا موقف ناقابل قبول ہے اس لئے اسے دوبارہ صلیب دی جائے۔ایسا فیصلہ کلیسیائی، مذہبی، نسلی اور لسانی تعصبات سے یکسر بالا ہو گا اور آفاقی نوعیت کا حامل ہو گا۔سچ بات یہ ہے کہ کوئی شخص بھی جس کے ہوش و حواس درست ہوں اور جو بہر طور سمجھ بوجھ کا مالک ہو وہ اس فیصلہ کے سوا کوئی اور فیصلہ دے ہی نہیں سکتا۔الغرض انسانی فہم و ادراک کی آفاقی ہم آہنگی جی اٹھنے اور زندہ ہو جانے کے موقف کو مسترد کر دے گی اور یہی فیصلہ دے گی کہ وہ کسی نہ کسی طرح موت سے بچ نکلنے میں کامیابی ہو گیا تھا۔بعینہ یہی کچھ یسوع مسیح کے معاملہ میں بھی ہوا۔نہ یہ مردہ جسم کے جی اٹھنے کا معاملہ تھا اور نہ یہ معاملہ تھا حشر نشر کے رنگ میں دوبارہ جی