مسیحیت ۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک — Page 94
مسیحیت۔ایک سفر حقائق سے فسانہ تک 94 نیا جسم عطا ہونے) کا ذکر کیا ہے۔یہ بات تو کبھی اس کے ذہن میں آئی ہی نہ تھی کہ مسیح کی روح اس کے اسی فانی جسم میں لوٹ آئی تھی اور یہ کہ مرنے کے بعد وہ عام جسمانی اصطلاح کی رو سے مادی طور پر دوبارہ جی اٹھا تھا۔سینٹ پال (پولوس) کو جس طرح میں نے سمجھا ہے اگر مسیحی دینیات کے بعض ماہرین کے نزدیک وہ قابل قبول نہیں ہے تو بھی انہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پولوس نے (اس کے بر خلاف کچھ اور کہہ کر) واضح طور پر اپنی تردید آپ کی ہے کیونکہ اس کے اپنے بعض بیانات اس بارہ میں شبہ کا کوئی شائبہ تک باقی رہنے ہی نہیں دیتے کہ مسیح کی زندگی resurrection ( یعنی حشر نشر کے طور پر حاصل ہونے والے نئے جسم) کی آئینہ دار تھی اور اس فانی انسانی جسم کے دوبارہ جی اٹھنے پر دلالت نہیں کرتی تھی جس میں پہلے اس کی روح مقید تھی۔بعض متعلقہ اقتباسات درج ذیل ہیں جو فی ذاتہ بالکل واضح ہیں اور مزید کسی وضاحت کے محتاج نہیں ہیں۔” اور خدا نے خداوند کو بھی جلایا اور ہم کو بھی اپنی قدرت سے جلائے گا۔“ (1۔کرنتھیوں باب 6 آیت 14) ”مردوں کی قیامت بھی ایسی ہی ہے۔جسم فنا کی حالت میں بویا جاتا ہے جو جسم زندہ اٹھایا جاتا ہے وہ فنا نہیں ہوتا۔جسم بے حرمتی کی حالت میں بویا جاتا ہے اور جلال کی حالت میں جی اٹھتا ہے۔کمزوری کی حالت میں بویا جاتا ہے اور قوت کی حالت میں جی اٹھتا ہے۔نفسانی جسم بویا جاتا ہے اور روحانی جسم جی اٹھتا ہے۔“ : (1 کرنتھیوں باب 15 آیت 42 تا 44) کیونکہ نرسنگا پھونکا جائے گا اور مردے غیر فانی حالت میں اٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور یہ مرنے والا جسم حیات ابدی کا جامہ پہنے۔اور جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیات ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہو گا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لقمہ ہو گئی۔“ (1 کرنتھیوں باب 15 آیات 52 تا54) الغرض ہماری خاطر جمع ہے ( یعنی ہم مطمئن ہیں) اور ہم کو بدن کے وطن سے جدا ہو کر خداوند کے وطن میں رہنا زیادہ منظور ہے۔(2۔کرنتھیوں باب 5 آیت 8) سینٹ پال (پولوس) کے مندرجہ بالا اقتباس کے تعلق میں ایک مسئلہ پھر بھی حل طلب رہتا ہے۔وہ